MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

دور سے آئے تھے ساقی سن کے مے خانے کو ہم

دور سے آئے تھے ساقی سن کے مے خانے کو ہم
بس ترستے ہی چلے افسوس پیمانے کو ہم

مے بھی ہے مینا بھی ہے ساغر بھی ہے ساقی نہیں
دل میں آتا ہے لگا دیں آگ مے خانے کو ہم

کیوں نہیں لیتا ہماری تو خبر اے بے خبر
کیا ترے عاشق ہوے تھے درد و غم کھانے کو ہم

ہم کو پھنسنا تھا قفس میں کیا گلہ صیاد کا
بس ترستے ہی رہے ہیں آب اور دانے کو ہم

طاق ابرو میں صنم کے کیا خدائی رہ گئی
اب تو پوجیں گے اسی کافر کے بت خانے کو ہم

شہر میں لگتا نہیں صحرا سے گھبراتا ہے دل
اب کہاں لے جا کے بیٹھیں ایسے دیوانے کو ہم

کیا ہوئی تقصیر ہم سے تو بتا دے اے نظیرؔ
تاکہ شادی مرگ سمجھیں ایسے مر جانے کو ہم


نظیر اکبر آبادی​

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم