آپ جس کو شباب کہتے ہیں
آپ جس کو شباب کہتے ہیںہم اسی کو شراب کہتے ہیں زندگی درد و غم کا دریا ہےآپ اس کو حباب کہتے ہیں جو کھٹکتے ھیں ان کی آنکھوں میںہم انہیں بھی جناب کہتے ہیں بس یہی فکر ہم کو لاحق ہےوہ ہمیں کیوں خراب کہتے ہیں تیری مخمور جوانی کی قسمہم تجھے لاجواب کہتے
آپ جس کو شباب کہتے ہیں Read More »