MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

آپ جس کو شباب کہتے ہیں

آپ جس کو شباب کہتے ہیںہم اسی کو شراب کہتے ہیں زندگی درد و غم کا دریا ہےآپ اس کو حباب کہتے ہیں جو کھٹکتے ھیں ان کی آنکھوں میںہم انہیں بھی جناب کہتے ہیں بس یہی فکر ہم کو لاحق ہےوہ ہمیں کیوں خراب کہتے ہیں تیری مخمور جوانی کی قسمہم تجھے لاجواب کہتے

آپ جس کو شباب کہتے ہیں Read More »

ہمارا غم جو سنے گی تو شاعری ہوگی

ہمارا غم جو سنے گی تو شاعری ہوگیوہ درد اپنا کہے گی تو شاعری ہوگی تکلفات سے ملنا ہمیں گوارہ نہیںبدن میں آگ لگے گی تو شاعری ہوگی خوشی کے لمحے غمِ زندگی بڑھاتے ہیںاداسی حد سے بڑھے گی تو شاعری ھوگی ترے ہی غم میں بھٹکتا ہوں در بدر جاناںغموں کی دھوپ ڈھلے گی

ہمارا غم جو سنے گی تو شاعری ہوگی Read More »

کتنی مشکل ہے یہ تکلیف گوارا کرنا

کتنی مشکل ہے یہ تکلیف گوارا کرناقرضِ جاں اپنا یہ ہے روز اتارا کرنا ہم نے پہلے ہی کہا تھا کہ محبت نہ کرواس میں ہر موڑ پہ ہوتا ہے خسارا کرنا جن کے ہونٹوں پہ ہنسی دل میں چبھن رہتی ہےایسے لوگوں سے مری جان کنارا کرنا ہم محبت میں عداوت کے نہیں ہیں

کتنی مشکل ہے یہ تکلیف گوارا کرنا Read More »

رنگ اپنا اتر گیا ہے میاں

رنگ اپنا اتر گیا ہے میاںغم کا چہرہ نکھر گیا ہے میاں کوئی جاتے ھوئے نظارے سےمیری آنکھوں کو بھر گیا ھے میاں جاتے جاتے وہ میرے دل کا مکیںمجھ کو ویران کر گیا ھے میاں مقتلِ عشق میں سجانے کوتن سے میرا ہی سر گیا ہے میاں کوئی کروٹ بدل کے روتے ھوئےاپنے سائے

رنگ اپنا اتر گیا ہے میاں Read More »

دل کے تاروں کو ھلا دیتی ھے

دل کے تاروں کو ھلا دیتی ھےخامشی غم کو بڑھا دیتی ھے تیرے اندازِ تکلم سے صبامیرے ارمان جگا دیتی ھے یہ مری چشمِ طلب دل میں مرےتری تصویر بنا دیتی ہے یہ ہے تاثیر دعاؤں کی میاںکھوئی تقدیر جگا دیتی ہے اور کرتی ہے کیا ہوا شائقبس چراغوں کو بجھا دیتی ہے (سید شائق

دل کے تاروں کو ھلا دیتی ھے Read More »

شام جب مرے ساتھ کرتے ہیں

شام جب مرے ساتھ کرتے ہیںبولتے ہیں نا بات کرتے ہیں بس یونہی دیکھتے ہی رہتے ہیںآنکھوں آنکھوں میں رات کرتے ہیں ان کے زیرِ اثر وہ پیادہ ہےجس سے دنیا کو مات کرتے ہیں ان کو دل جیتنا نہیں آتاوہ تو تسخیر ذات کرتے ہیں شام جب ڈوبنے کو ہوتی ہےدر و دیوار بات

شام جب مرے ساتھ کرتے ہیں Read More »

اس کو معلوم ہے اس راہ میں آزار بھی ہے۔

اس کو معلوم ہے اس راہ میں آزار بھی ہے۔وہ مرے ساتھ مگر چلنے پہ تیار بھی ہے۔ سارے کردار کہانی کے ہوئے ختم حضور۔اس کہانی میں مرا کیا کوئی کردار بھی ھے۔ اس پہ جاں اپنی لٹا دونگا کہے تو اک بار۔وہ ہی جانی ہے مرا، دل ہے مرا یار بھی ہے۔ اپنے دل

اس کو معلوم ہے اس راہ میں آزار بھی ہے۔ Read More »

فلک پہ جاتی ہوئی ماہتابی رہ گئی ہے

فلک پہ جاتی ہوئی ماہتابی رہ گئی ہےہماری خاک میں کوئی خرابی رہ گئی ہے بس اب کے اس کی نگاہِ دگر پہ فیصلہ ہےمیں گم تو ہوچکا ہوں بازیابی رہ گئی ہے چمک گیا تھا کبھی بندِ پیرہن اس کابدن سے لپٹی ہوئی بے حجابی رہ گئی ہے غبارِ شب کے ادھر کچھ نہ

فلک پہ جاتی ہوئی ماہتابی رہ گئی ہے Read More »

رات اک شہر نے تازہ کئے منظر اپنے

رات اک شہر نے تازہ کئے منظر اپنےنیند آنکھوں سے اُڑی کھول کے شہپر اپنے تم سرِ دشت و چمن مجھ کو کہاں ڈھونڈتے ہومیں تو ہر رت میں بدل دیتا ہوں پیکر اپنے یہی ویرانہ بچا تھا تو خدا نے آخررکھ دیے دل میں مرے سات سمندر اپنے روز وہ شخص صدا دے کے

رات اک شہر نے تازہ کئے منظر اپنے Read More »

کوزہ گر پھر اسی مٹی میں ملاتا ہے مجھے

کوزہ گر پھر اسی مٹی میں ملاتا ہے مجھےدیکھیے اب کے وہ کیا چیز بناتا ہے مجھے میں تو اس دشت میں خود آیا تھا کرنے کو شکارکون یہ زین سے باندھے لیے جاتا ہے مجھے خاک پر جب بھی کوئی تیر گرا دیتا ہےدستِ دلدار کوئی بڑھ کے اٹھاتا ہے مجھے ساعتے چند کروں

کوزہ گر پھر اسی مٹی میں ملاتا ہے مجھے Read More »