MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ترے افق میں نئے رنگ ڈھالنے آیا

ترے افق میں نئے رنگ ڈھالنے آیامیں اب کے اور ہی شیشے اچھالنے آیا اسی کے وار نے ہشیار تر کیا مجھ کومرا عدو ہی مری تیغ اجالنے آیا میں گر چکا تھا کہ نصرت کا رہوار لیےمجھے مصاف سے کوئی نکالنے آیا پھر اک رفیق ملا بے اماں مسافت میںہوا کا جھونکا بدن کو

ترے افق میں نئے رنگ ڈھالنے آیا Read More »

بزرگِ وقت، کسی شے کو لازوال بھی کر

بزرگِ وقت، کسی شے کو لازوال بھی کرتو کیسا شعبدہ گر ہے، کوئی کمال بھی کر دَرخت ہوں تو کبھی بیٹھ میرے سائے میںمیں سبزہ ہوں تو کبھی مجھ کو پائمال بھی کر یہ تمکنت کہیں پتھر بنا نہ دے تجھ کوتوُ آدمی ہے، خوشی بھی دِکھا، ملال بھی کر میں چاہتا ہوں کہ اَب

بزرگِ وقت، کسی شے کو لازوال بھی کر Read More »

ایک اور دِن شہید ہوا، ہو گئی ہے شام

ایک اور دِن شہید ہوا، ہو گئی ہے شاملشکر سے شب کے شور اُٹھا ہو گئی ہے شام مدّت ہوئی کہ سر پہ سرابوں کی دُھوپ ہےدشتِ طلب میں ہم سے خفا ہو گئی ہے شام لو دے اُٹھا ہے دستِ دُعا پر شفق کا رنگتیری ہتھیلیوں پہ حنا ہو گئی ہے شام میرے لبوں

ایک اور دِن شہید ہوا، ہو گئی ہے شام Read More »

اَپنے بھولے ہوئے منظر کی طرف لوٹ چلو

اَپنے بھولے ہوئے منظر کی طرف لوٹ چلوگم شدہ تیرو، کسی سر کی طرف لوٹ چلو تم پرندوں سے زیادہ تو نہیں ہو آزادشام ہونے کو ہے، اَب گھر کی طرف لوٹ چلو اُس سے بچھڑے تو تمہیں کوئی نہ پہچانے گاتم تو پرچھائیں ہو، پیکر کی طرف لوٹ چلو ریت کی ہمسفری صرف کناروں

اَپنے بھولے ہوئے منظر کی طرف لوٹ چلو Read More »

کاش میں بھی کبھی یاروں کا کہا مان سکوں

کاش میں بھی کبھی یاروں کا کہا مان سکوںآنکھ کے جسم پہ خوابوں کی رِدا تان سکوں میں سمندر ہوں، نہ توُ میرا شناور، پیارےتوُ بیاباں ہے نہ میں خاک تری چھان سکوں رُوئے دِلبر بھی وہی، چہرۂ قاتل بھی وہیتوُ کبھی آنکھ ملائے تو میں پہچان سکوں وقت یہ اور ہے، مجھ میں یہ

کاش میں بھی کبھی یاروں کا کہا مان سکوں Read More »

کسی نے دیکھا ہے کل کی ضرورتوں کو اَبھی

کسی نے دیکھا ہے کل کی ضرورتوں کو اَبھیبچائے رَکھو پُرانی روایتوں کو اَبھی جو لوگ کرتے ہیں بے داغ چاہتوں کی تلاشترسنے والے ہیں جھوٹی محبتوں کو اَبھی پھر اِک کمند نے ماں سے چھڑا لیا اُس کوسمجھ رہا تھا وہ صحرا کی وُسعتوں کو اَبھی اَکھر رہا ہے بھری دوپہر کا سنّاٹاشریر پاؤں

کسی نے دیکھا ہے کل کی ضرورتوں کو اَبھی Read More »

وہ اُن دِنوں تو ہمارا تھا، لیکن اَب کیا ہے

وہ اُن دِنوں تو ہمارا تھا، لیکن اَب کیا ہےپھر اُس سے آج وہی رنجِ بے سبب کیا ہے تم اُس کا وَار بچانے کی فکر میں کیوں ہووہ جانتا ہے مسیحائیوں کا ڈھب کیا ہے دبیز کہر ہے یا نرم دُھوپ کی چادرخبر نہیں ترے بعد اَے غبارِ شب کیا ہے دِکھا رہا ہے

وہ اُن دِنوں تو ہمارا تھا، لیکن اَب کیا ہے Read More »

ملا تو دہر میں وہ کام کر گیا اک شخص

ملا تو دہر میں وہ کام کر گیا اک شخصکہ میرے بخت کو سر تاج کر گیا اک شخص رقیب جس کسی سر تال میں کرے ہے رقصمری تو ذات کی تکمیل کر گیا اک شخص تماشہ دیکھنے والوں رہے گی تم کو حرصکہ کون ہے کہاں سے آیا کب گیا اک شخص وفا تو

ملا تو دہر میں وہ کام کر گیا اک شخص Read More »

مرے کوزہ گر…

مرے کوزہ گر… مجھے وقت کی آنکھوں سے سینک کرکوئی نقش دےجو ترے کرم سے ہو آشناجو عطائے خاص سے ایک دنمری اس جبین کو پھیر دے مرے کوزہ گر… میں کہ جسد خاکی کی وحشتوں کی امین ہوںمجھے آفرینِ نگار دےمجھے آب جو سا قرار دےجو ترے کرم پہ ہی مر مٹےمری خاک کو

مرے کوزہ گر… Read More »

سمجھ رہے تھے کہ ٹل رہے ہیں

سمجھ رہے تھے کہ ٹل رہے ہیںعذاب روحوں میں پل رہے ہیں بہار میں کیسی بے رخی ہےپرندے تلخی میں ڈھل رہے ہیں عداوتوں کے چھڑے ہیں قصےذہن میں چہرے ابل رہے ہیں ہیں دست بستہ عذاب سارےسلگتے لمحوں پہ چل رہے ہیں یقین مانوکہ آستیں میںتمہارے جیسے ہی پل رہے ہیں نئی محبت تمہیں

سمجھ رہے تھے کہ ٹل رہے ہیں Read More »