ترے افق میں نئے رنگ ڈھالنے آیا
ترے افق میں نئے رنگ ڈھالنے آیامیں اب کے اور ہی شیشے اچھالنے آیا اسی کے وار نے ہشیار تر کیا مجھ کومرا عدو ہی مری تیغ اجالنے آیا میں گر چکا تھا کہ نصرت کا رہوار لیےمجھے مصاف سے کوئی نکالنے آیا پھر اک رفیق ملا بے اماں مسافت میںہوا کا جھونکا بدن کو
ترے افق میں نئے رنگ ڈھالنے آیا Read More »