MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

سب سے حساب اپنا چکا کر گیا وہ شخص

سب سے حساب اپنا چکا کر گیا وہ شخص قرضے میں اپنے خود کو ادا کر گیا وہ شخص تشنہ رتوں میں سوچ کے خیمے میں آگیا شعروں کی چاندنی میں نہا کر گیا وہ شخص محصور اس طرح کیا افکار میں مجھے پھولوں کا ایک جال بچھا کر گیا وہ شخص بزمِ سخن میں

سب سے حساب اپنا چکا کر گیا وہ شخص Read More »

طوافِ کوچۂ جاناں جو کر لیتے تو اچھا تھا

طوافِ کوچۂ جاناں جو کر لیتے تو اچھا تھا یہ الزامِِ وفا بھی اپنے سر لیتے تو اچھا تھا شبِ ہجراں بھی کٹ جاتی ہمارا شوق رہ جاتا مری جاں تیرے کوچے میں جو گھر لیتے تو اچھا تھا تغافل نے ہمیں ہے دین کا رکھا نہ دنیا کا کسی کا نام گر شام و

طوافِ کوچۂ جاناں جو کر لیتے تو اچھا تھا Read More »

رموزِ عشق سے وہ بہرہ مند کر دے گا

رموزِ عشق سے وہ بہرہ مند کر دے گا مرے وجود کو اک روز قند کر دے گا نقاب چہرے سے اپنے ہٹائے گا اک دن پھر اپنی ذات سے وہ بہرہ مند کر دے گا وہ مجھ پہ کر کے غضب کی عنائتیں یارو حصارِ فکر میں پھر مجھ کو بند کر دے گا

رموزِ عشق سے وہ بہرہ مند کر دے گا Read More »

اس طرح زیست کا انداز بدل کر دیکھا

اس طرح زیست کا انداز بدل کر دیکھا میں نے یخ بستہ ہواؤں میں پگھل کر دیکھا میرے افکار سے بھی تیز تھی رفتار مری جسم کے خول سے جب میں نے نکل کر دیکھا پاؤں جمتے ہی گئے تیرے بدن پر میرے زندگی! موت کی جانب جو پھسل کر دیکھا بے وفائی بھی ہوئی

اس طرح زیست کا انداز بدل کر دیکھا Read More »

فکرِمعاش عشقِ بتاں سے گزر گیا

فکرِمعاش عشقِ بتاں سے گزر گیا دل سے گزرنا تھا مجھے جاں سے گزرگیا گرچہ وہ قید و بندِ خیالات میں رہا لب وا کیے تو حُسنِ بیاں سے گزر گیا میں ڈھونڈتا رہا اُسے صحرائے وقت میں اُس کی تلاش میں ،میں کہاں سے گزر گیا تلخی مزاجِ یار کی اس بار دیکھ کر

فکرِمعاش عشقِ بتاں سے گزر گیا Read More »

زندگی ہم نے تجھے زیرِ مسائل رکھا

زندگی ہم نے تجھے زیرِ مسائل رکھا موم کی گڑیا کو سورج کے مقابل رکھا مجھ کو اپنی ہی شباہت نظر آئی اُس میں سامنے اُس نے مرے جب مرا قاتل رکھا کر دیا مجھ کو خلاوں میں معلق اُس نے اُس نے جب مجھ کو مرے مد مقابل رکھا خود مجھے وقت کے طوفان

زندگی ہم نے تجھے زیرِ مسائل رکھا Read More »

درد میں ڈوبی ہوئی اک داستاں کا اقتباس

درد میں ڈوبی ہوئی اک داستاں کا اقتباس اس کے چہرے پر لکھا ہے کس جہاں کا اقتباس خود ہی آجانا دریچہ درد کا تم کھول کر خود ہی لکھنا صفحہء دل پر زیاں کا اقتباس ہجرتوں میں ہجر کا ساماں ہوا جب وہ ملا نارسائی ہی رہی عمرِ رواں کا اقتباس تھے کتاب زندگی

درد میں ڈوبی ہوئی اک داستاں کا اقتباس Read More »

کر رہی تھیں سبزہ زاروں میں جو کل اٹکھیلیاں

کر رہی تھیں سبزہ زاروں میں جو کل اٹکھیلیاں دام میں صیّاد کے اب آگئیں وہ ہرنیاں موسمِ ہجراں میں خود سے بھی بچھڑنے لگ گیا میں نے سوچی ہی نہ تھیں قسمت میں ایسی دوریاں دل کی دھڑکن رک رہی ہے اور ایسا حبس ہے جیسے کمرہ بند ہو اور بند ہوں سب کھڑکیاں

کر رہی تھیں سبزہ زاروں میں جو کل اٹکھیلیاں Read More »

دلوں میں درد کی دولت ہے چشم تر بھی تو ہو

دلوں میں درد کی دولت ہے چشم تر بھی تو ہو دعائے نیم شبی میں کوئی اثر بھی تو ہو کبھی تو گردش دوراں کو بھی مزاج ملے کسی نگر کسی کوچے میں کوئی گھر بھی تو ہو وفورِ شوق سے مجھ کو بلا رہے ہو تو پھر ملن کی رات ہو تاروں کی رہ

دلوں میں درد کی دولت ہے چشم تر بھی تو ہو Read More »

ہر آدمی یہ تلاش کرتا ہے کیا تھا ارض وسما سے پہلے

ہر آدمی یہ تلاش کرتا ہے کیا تھا ارض وسما سے پہلے ہے کتنا ناداں کہ ڈھونڈتا ہے جہاں میں کیا تھا خدا سے پہلے بتوں سے دل کا بھرا تھا کعبہ ہر اک پہ کتنا فریفتہ تھا نظر میں رستے تھے نہ ہی منزل قیام ِ حسنِ ادا سے پہلے مجھے یوں محدود کر

ہر آدمی یہ تلاش کرتا ہے کیا تھا ارض وسما سے پہلے Read More »