سب سے حساب اپنا چکا کر گیا وہ شخص
سب سے حساب اپنا چکا کر گیا وہ شخص قرضے میں اپنے خود کو ادا کر گیا وہ شخص تشنہ رتوں میں سوچ کے خیمے میں آگیا شعروں کی چاندنی میں نہا کر گیا وہ شخص محصور اس طرح کیا افکار میں مجھے پھولوں کا ایک جال بچھا کر گیا وہ شخص بزمِ سخن میں
سب سے حساب اپنا چکا کر گیا وہ شخص Read More »