MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

سب سے حساب اپنا چکا کر گیا وہ شخص

سب سے حساب اپنا چکا کر گیا وہ شخص
قرضے میں اپنے خود کو ادا کر گیا وہ شخص

تشنہ رتوں میں سوچ کے خیمے میں آگیا
شعروں کی چاندنی میں نہا کر گیا وہ شخص

محصور اس طرح کیا افکار میں مجھے
پھولوں کا ایک جال بچھا کر گیا وہ شخص

بزمِ سخن میں قوسِ قزح بن کے چھا گیا
محفل میں آکے حشر بپا کر گیا وہ شخص

مجھ کو محبتوں کا سلیقہ سکھا گیا
میرا وجود حرفِ وفا کر گیا وہ شخص

جب تک رہا وہ بزم میں ہنستا رہا مرادؔ
لیکن گیا تو سب کو رُلا کر گیا وہ شخص

شفیق مراد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم