MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

دے محبت تو محبت میں اثر پیدا کر

دے محبت تو محبت میں اثر پیدا کرجو ادھر دل میں ہے یا رب وہ ادھر پیدا کر دود دل عشق میں اتنا تو اثر پیدا کرسر کٹے شمع کی مانند تو سر پیدا کر پھر ہمارا دل گم گشتہ بھی مل جائے گاپہلے تو اپنا دہن اپنی کمر پیدا کر کام لینے ہیں محبت

دے محبت تو محبت میں اثر پیدا کر Read More »

اپنی خلوت میں بلا خوف میں اکثر رویا

اپنی خلوت میں بلا خوف میں اکثر رویا میرے رونے پہ مرے ساتھ مقدر رویا اس کے جاتے ہوئے قدموں میں اک طوفان اٹھا شدتِ غم سے مرا دل جو بلک کر رویا اس کی محفل سے نکل جاؤں گا لیکن پھر وہ اس طرح روئے گا جیسے کوئی پتھر رویا پھر خزاں نے کیا

اپنی خلوت میں بلا خوف میں اکثر رویا Read More »

کھوں میں آج بپھرا سمندر سمیٹ لوں

آنکھوں میں آج بپھرا سمندر سمیٹ لوں تم ساتھ دو تو بکھرا مقدر سمیٹ لوں زلفیں بکھرنے سے کہیں موسم بدل گیا میں سوچتا ہوں آج یہ عنبر سمیٹ لوں باہر نظر نہ آئے کسی کو جمال پھر کر انتظام ایسا کہ اندر سمیٹ لوں جانا ہے اب تو مجھ کو منٰی کی طرف اگر

کھوں میں آج بپھرا سمندر سمیٹ لوں Read More »

ہو گیا شام دن بھی ڈھل ڈھل کر

ہو گیا شام دن بھی ڈھل ڈھل کر تھک گیا ہوں زمیں پہ چل چل کر گل ہوئے ہیں چراغ جل جل کر موت آئے گی میری ٹل ٹل کر اشک آنکھوں سے اس طرح نکلے شمع پگھلی ہو جیسے جل جل کر پھر اٹھیں گے دعائیں دینے کو ہاتھ رہ جائیں کیسے مل مل

ہو گیا شام دن بھی ڈھل ڈھل کر Read More »

یارو مری منزل کا پتہ اور ہی کچھ ہے

یارو مری منزل کا پتہ اور ہی کچھ ہے یا میرے مقدر میں لکھا اور ہی کچھ ہے ہر شخص مجھے جینے کی دیتا ہے دعائیں لیکن مرے ہونٹوں پہ دعا اور ہی کچھ ہے اب دل پہ ترا نام رقم کر لیا میں نے اب دل کے دھڑکنے کی صدا اور ہی کچھ ہے

یارو مری منزل کا پتہ اور ہی کچھ ہے Read More »

تصورات میں وہ بے قرار آتے ہیں

تصورات میں وہ بے قرار آتے ہیں وہ ایک بار نہیں بار بار آتے ہیں کلی کلی بھی چٹک کر پیام دیتی ہے وہ اپنے ساتھ لیے کل بہار آتے ہیں خدا ہی جانے محبت میں تیرے دیوانے شبِ فراق کہاں پر گزار آتے ہیں چمن میں عشق و محبت کے ہم نے دیکھا ہے

تصورات میں وہ بے قرار آتے ہیں Read More »

جوانی بام پر آئی غزل کہنے پڑی مجھ کو

جوانی بام پر آئی غزل کہنے پڑی مجھ کو تمہاری زلف لہرائی غزل کہنے پڑی مجھ کو ادائے حسن کا عالم نگاہوں میں سمٹ آیا تجلی اس نے دکھلائی غزل کہنی پری مجھ کو جنونِ شوق میں دیکھا تھا میں نے بے نقابی میں نگاہِ حسن شرمائی غزل کہنی پڑی مجھ کو نظارہ پیش کرنے

جوانی بام پر آئی غزل کہنے پڑی مجھ کو Read More »

جوانی کا زمانہ یاد آیا

جوانی کا زمانہ یاد آیا محبت کا فسانہ یاد آیا اگر آبادیوں میں شام آئی پرندے کو ٹھکانہ یاد آیا گلستان پر تو بجلی گر چکی ہے تجھے اب آشیانہ یاد آیا اگر میں جانبِ دل دیکھتا ہوں نگاہوں کا نشانہ یاد آیا محبت میں کسی کی مر رہا ہوں مگر دل کو ترانہ یاد

جوانی کا زمانہ یاد آیا Read More »

درد کے سب کام راضی بہ رضا ہو جائیں گے

درد کے سب کام راضی بہ رضا ہو جائیں گے کیا کرو گے تم اگر ہم بھی خفا ہو جائیں گے بے رخی سے ہم تری بے آسرا ہو جائیں گے تیری نظروں میں سما کر کیا سے کیا ہو جائیں گے ہم تو بزمِ ناز میں انجام سے تھے بے خبر کیا خبر تھی

درد کے سب کام راضی بہ رضا ہو جائیں گے Read More »

سنورنے اور بگڑنے میں بتا دی زندگی میں نے

سنورنے اور بگڑنے میں بتا دی زندگی میں نے کبھی کی بندگی میں نے کبھی کی عاشقی میں نے پھر اس کے بعد شہرِ دل کا موسم ہی نہیں نکھرا مزاجِ یار میں دیکھی تھی اک دن بے رخی میں نے نہ اب وہ جام ہے ساقی نہ کوئی زیست کا ساماں خمارِ عشق میں

سنورنے اور بگڑنے میں بتا دی زندگی میں نے Read More »