MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

نہیں نگاہ میں منزل تو جستجو ہی سہی

نہیں نگاہ میں منزل تو جستجو ہی سہینہیں وصال میسر تو آرزو ہی سہی نہ تن میں خون فراہم نہ اشک آنکھوں میںنماز شوق تو واجب ہے بے وضو ہی سہی کسی طرح تو جمے بزم مے کدے والونہیں جو بادہ و ساغر تو ہاؤ ہو ہی سہی گر انتظار کٹھن ہے تو جب تلک

نہیں نگاہ میں منزل تو جستجو ہی سہی Read More »

تم آئے ہو نہ شب انتظار گزری ہے

تم آئے ہو نہ شب انتظار گزری ہےتلاش میں ہے سحر بار بار گزری ہے جنوں میں جتنی بھی گزری بکار گزری ہےاگرچہ دل پہ خرابی ہزار گزری ہے ہوئی ہے حضرت ناصح سے گفتگو جس شبوہ شب ضرور سر کوئے یار گزری ہے وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھاوہ بات

تم آئے ہو نہ شب انتظار گزری ہے Read More »

”آپ کی یاد آتی رہی رات بھر

”آپ کی یاد آتی رہی رات بھرچاندنی دل دکھاتی رہی رات بھر گاہ جلتی ہوئی گاہ بجھتی ہوئیشمع غم جھلملاتی رہی رات بھر کوئی خوشبو بدلتی رہی پیرہنکوئی تصویر گاتی رہی رات بھر پھر صبا سایۂ شاخ گل کے تلےکوئی قصہ سناتی رہی رات بھر جو نہ آیا اسے کوئی زنجیر درہر صدا پر بلاتی

”آپ کی یاد آتی رہی رات بھر Read More »

ہم پر تمہاری چاہ کا الزام ہی تو ہے

ہم پر تمہاری چاہ کا الزام ہی تو ہےدشنام تو نہیں ہے یہ اکرام ہی تو ہے کرتے ہیں جس پہ طعن کوئی جرم تو نہیںشوق فضول و الفت ناکام ہی تو ہے دل مدعی کے حرف ملامت سے شاد ہےاے جان جاں یہ حرف ترا نام ہی تو ہے دل ناامید تو نہیں ناکام

ہم پر تمہاری چاہ کا الزام ہی تو ہے Read More »

گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے

Guloon Main Rang Bharay Baad e No Bahaar chlay غزل گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلےچلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے قفس اداس ہے یارو صبا سے کچھ تو کہوکہیں تو بہر خدا آج ذکر یار چلے کبھی تو صبح ترے کنج لب سے ہو آغازکبھی تو شب سر کاکل سے مشکبار

گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے Read More »

آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے

آئے کچھ ابر کچھ شراب آئےاس کے بعد آئے جو عذاب آئے بام مینا سے ماہتاب اترےدست ساقی میں آفتاب آئے ہر رگ خوں میں پھر چراغاں ہوسامنے پھر وہ بے نقاب آئے عمر کے ہر ورق پہ دل کی نظرتیری مہر و وفا کے باب آئے کر رہا تھا غم جہاں کا حسابآج تم

آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے Read More »

دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے

دونوں جہان تیری محبت میں ہار کےوہ جا رہا ہے کوئی شب غم گزار کے ویراں ہے مے کدہ خم و ساغر اداس ہیںتم کیا گئے کہ روٹھ گئے دن بہار کے اک فرصت گناہ ملی وہ بھی چار دندیکھے ہیں ہم نے حوصلے پروردگار کے دنیا نے تیری یاد سے بیگانہ کر دیاتجھ سے

دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے Read More »

شام فراق اب نہ پوچھ آئی اور آ کے ٹل گئی

شام فراق اب نہ پوچھ آئی اور آ کے ٹل گئیدل تھا کہ پھر بہل گیا جاں تھی کہ پھر سنبھل گئی بزم خیال میں ترے حسن کی شمع جل گئیدرد کا چاند بجھ گیا ہجر کی رات ڈھل گئی جب تجھے یاد کر لیا صبح مہک مہک اٹھیجب ترا غم جگا لیا رات مچل

شام فراق اب نہ پوچھ آئی اور آ کے ٹل گئی Read More »

ٹوٹ بٹوٹ کے مرغے

صوفی غلام مصطفی تبسم کی بچوں کے لیے نظم ٹوٹ بٹوٹ کے دو مُرغے تھے دونوں تھے ہُشیار اِک مُرغے کا نام تھا گیٹو اِک کا نام گِٹار اِک مُرغے کی دُم تھی کالی اِک مُرغے کی لال اِک مُرغے کی چونچ نرالیاِک مُرغے کی چال اِک پہنے پتلُون اور نیکراِک پہنے شلوار اِک پہنے

ٹوٹ بٹوٹ کے مرغے Read More »

دل میں یاروں کے کیا سمائی ہے

دل میں یاروں کے کیا سمائی ہے بات مُجھ سے مِری کرائی ہے گھر میں روپوش تھے اندھیرے جب بند کھڑکی سے دُھوپ آئی ہے سَر سَری ذِکر کر گئے دِل کا باتوں باتوں میں بات آئی ہے جانتا ہُوں امیروں کو جن کی خاک بِستر ٗ فلک رَضائی ہے راز کی بات راز ہی

دل میں یاروں کے کیا سمائی ہے Read More »