MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ہماری ہر ایک صُبح ، ہر ایک شام ، اوندھی پڑی ہُوئی ہے

ہماری ہر ایک صُبح ، ہر ایک شام ، اوندھی پڑی ہُوئی ہے وہ شان و شوکت ، وہ بادشاہی ٬ تمام ٬ اوندھی پڑی ہُوئی ہے رَکاب ہے اُس طرف ، اُدھر وہ لگام ، تِیر و کمان ، ترکش رہی وہ تلوار ، ساتھ خالی نیام ، اوندھی پڑی ہُوئی ہے وہ عیش

ہماری ہر ایک صُبح ، ہر ایک شام ، اوندھی پڑی ہُوئی ہے Read More »

وہ ہے اچھا بھلا بھی اور نہیں بھی

وہ ہے اچھا بھلا بھی اور نہیں بھی کہیں جس کو بُرا بھی اور نہیں بھی خبر رکھتا ہے میری جانتا ہُوں اُسے ہوگا پتہ بھی اور نہیں بھی کریں تو کیا کریں بیمار اُس کے وہی دے گا دوا بھی اور نہیں بھی اندھیرا بزم میں روشن ہُوا ہے چراغِ دل بُجھا بھی اور

وہ ہے اچھا بھلا بھی اور نہیں بھی Read More »

دیتے رہے سفر میں یوں تسکین راستے

دیتے رہے سفر میں یوں تسکین راستے شیریں تھے تلخ تھے کہیں نمکین راستے ٹھہریں جو شام دن کے تھکے ہارے کارواں مہماں نوازی کرتے ہیں شوقین راستے رستے سجیں امیر کے لیکن غریب کی منزل اندھیری ہوتی ہے مسکین راستے اک راستے پہ چوک سے میں چل پڑا مگر ناراض مُجھ سے رہنے لگے

دیتے رہے سفر میں یوں تسکین راستے Read More »

آنکھوں کے میکدے میں ہُوا بے حساب رقص

آنکھوں کے میکدے میں ہُوا بے حساب رقص تعبیٖر پاکے کرتے رہے سارے خواب رقص بے چینیٖوں کا نام غَریٖبوں کی ” ناچ “ ہے اب تو اَمیٖر لوگوں کا ہے اضطراب رقص پہلے پہل تھا زندگی کا رقص ایک شوق آگے چلا تو ہو گیا شوقِ عذاب رقص معصوم پُوچھتا ہے یہ کثرت کے

آنکھوں کے میکدے میں ہُوا بے حساب رقص Read More »

کتنی مُشکل سے بچا پائے گی دُنیا پہلو

کتنی مُشکل سے بچا پائے گی دُنیا پہلو ہم جو بدلیں گے فقط اپنا ذرا سا پہلو اُس نے تقدیر سے تدبیر کا رشتہ باندھا ساتھ رہتا ہے دوا کے بھی دُعا کا پہلو چہرے جُھوٹوں کے سرِ بزم اُتر جاتے ہیں پیش کرتا ہُوں میں اشعار میں سچا پہلو راستے پائے گا بخشش کے

کتنی مُشکل سے بچا پائے گی دُنیا پہلو Read More »

دریا مِرے وُجود کا پیاسا بہت لگا

دریا مِرے وُجود کا پیاسا بہت لگا مُجھ کو مِرا وُجود ذرا سا بہت لگا پیاسی زمیں کو ایک دِلاسا بہت لگا تشنہ لبوں کو ابر کا ٹُکڑا بہت لگا مارے خُوشی کے جُھوم رہے تھے کسان سب آنکھوں میں پِھر بھی ایک سا خدشہ بہت لگا سب تیٖر طنز کے تھے چلائے کمال سے

دریا مِرے وُجود کا پیاسا بہت لگا Read More »

پُھول چہرے تھے کہ پہچان میں رکّھے رکّھے

پُھول چہرے تھے کہ پہچان میں رکّھے رکّھے کھو گئے دِل کے خیابان میں رکّھے رکّھے خُود فسانہ وہ بنا بیٹھ گیا اپنا ہی اپنے کِردار کو عُنوان میں رکّھے رکّھے وہ خیالات میں میرے تو ہے آتا جاتا بُھول جاتا ہے مُجھے دھیان میں رکّھے رکّھے گُل دریچوں میں ہیں محرومِ تبسُّم اب بھی

پُھول چہرے تھے کہ پہچان میں رکّھے رکّھے Read More »

تاریکیوں میں ماہِ مُنور تراش کر

تاریکیوں میں ماہِ مُنور تراش کر چلتے رہے ہیں ایسے ہی منظر تراش کر سائے میں چلنے والے مسافر ذرا سنبھل رستے میں دُھوپ بیٹھی ہے تیور تراش کر اندر تلک وہ پُتلے سبھی نِکلے سنگ دِل دیکھے بہت ہیں ہم نے بھی پتّھر تراش کر سُورج اکڑ کے رہتا ہے دن بھر اسی لیے

تاریکیوں میں ماہِ مُنور تراش کر Read More »

نِرالی دُھوپ انوکھے حساب کا سُورج

نِرالی دُھوپ انوکھے حساب کا سُورج ہمیں مِلا ہے بڑے اکتساب کا سُورج بتاؤ اہلِ چمن کیسے تُم سے ہے مُمکن الگ چمیلی سے ہوگا گُلاب کا سُورج تمام شب وہ جو ماہتاب ہے میرا تمام دِن میں اُسی ماہتاب کا سُورج تُمہارے پاس کئی چاند ہیں سوالوں کے ہمارے پاس فقط اِک جواب کا

نِرالی دُھوپ انوکھے حساب کا سُورج Read More »

واقعہ ماضی کا ہے لگتی ہے جیسے کل کی بات

واقعہ ماضی کا ہے لگتی ہے جیسے کل کی بات کیا بتاؤں کتنی گہری تھی وہ دل کی واردات بعد مرنے کے ہی شاید زندگی آسان ہو زندگی میں درد سے، ممکن نہیں ہر گز نجات لگ رہا ہے بے وفائی کر رہے ہو آج کل کچھ زیادہ ہی دکھانے لگ گئے ہو التفات آسماں

واقعہ ماضی کا ہے لگتی ہے جیسے کل کی بات Read More »