ہماری ہر ایک صُبح ، ہر ایک شام ، اوندھی پڑی ہُوئی ہے
ہماری ہر ایک صُبح ، ہر ایک شام ، اوندھی پڑی ہُوئی ہے وہ شان و شوکت ، وہ بادشاہی ٬ تمام ٬ اوندھی پڑی ہُوئی ہے رَکاب ہے اُس طرف ، اُدھر وہ لگام ، تِیر و کمان ، ترکش رہی وہ تلوار ، ساتھ خالی نیام ، اوندھی پڑی ہُوئی ہے وہ عیش
ہماری ہر ایک صُبح ، ہر ایک شام ، اوندھی پڑی ہُوئی ہے Read More »