MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

سینے سے تیر یار کا پیکاں نکل گیا

غزل سینے سے تیر یار کا پیکاں نکل گیا افسوس گھر میں آن کے مہماں نکل گیا حیراں ہوں میں بتا تو ہوا جس پہ تو خفا کیا ایسا میرے منہ سے مری جاں نکل گیا کچھ چاشنیٔ عشق سے واقف تھا قیس سو دیوانہ ہو کے سوئے بیاباں نکل گیا اشکوں کے ساتھ سینے […]

سینے سے تیر یار کا پیکاں نکل گیا Read More »

آ کر پھرا نہ نام کو آنکھوں میں خواب شب

غزل آ کر پھرا نہ نام کو آنکھوں میں خواب شب کیا کیا رہا ہے دل کو مرے اضطراب شب واں اس نے جام مے دئے غیروں کو اور یاں چھلکا کیا ہے کاسۂ چشم پر آب شب مانگا جو ایک بوسہ تو بولے کہ راہ لو اک عمر میں دیا تو دیا یہ جواب

آ کر پھرا نہ نام کو آنکھوں میں خواب شب Read More »

کیفیت ایسی ہے نگہ مست خواب میں

غزل کیفیت ایسی ہے نگہ مست خواب میں زاہد بھی دیکھ لے تو نہاوے شراب میں کیوں کیا کہیں گے حضرت یوسف جواب میں چوری کیا ہے دل جو زلیخا کا خواب میں ہونٹوں کو تر تو کرتے ہو قدح شراب میں ایسا نہ ہو کہ آگ لگے آفتاب میں ہے جوش گریہ اب بھی

کیفیت ایسی ہے نگہ مست خواب میں Read More »

بس اس لیے تمہیں بھیجا تھا لکھ کے ہاں کاغذ

غزل بس اس لیے تمہیں بھیجا تھا لکھ کے ہاں کاغذ کہ میرا حال کرے تم سے کچھ بیاں کاغذ خدا کے واسطے کس طرح پہنچے واں کاغذ نہ لے کے جا سکے جس جا فرشتہ خاں کاغذ ابھی لکھا بھی نہ تھا حال سینۂ پر داغ کہ بن گیا یوں ہی صد شک گلستاں

بس اس لیے تمہیں بھیجا تھا لکھ کے ہاں کاغذ Read More »

ہو رہا ہے ٹکڑے ٹکڑے دل میرے غم خوار کا

غزل ہو رہا ہے ٹکڑے ٹکڑے دل میرے غم خوار کا ہے مرے زخم جگر میں کاٹ تیغ یار کا شور ہے غل ہے جہاں میں مردن دشوار کا ایک چلتا وار ہے ہیں تیغ نگاہ یار کا نغمہ دل کش ہے دشمن عندلیب زار کا ہے قفس میں بند ہونا کھولنا منقار کا مست

ہو رہا ہے ٹکڑے ٹکڑے دل میرے غم خوار کا Read More »

اشک بیتاب و نگہ بے باک و چشم تر خراب

غزل اشک بیتاب و نگہ بے باک و چشم تر خراب چشم بینا سے اگر دیکھو تو گھر کا گھر خراب گریہ بے تاثیر و فریاد دل مضطرب خراب کار عشق و عاشقی ناقص تمام اکثر خراب اک ہمارا نام جو پہنچے نہ تیری بزم تک اک ہماری خاک ہے جو پھرتی ہے در در

اشک بیتاب و نگہ بے باک و چشم تر خراب Read More »

محبت ہو تو برق جسم و جاں ہو

غزل محبت ہو تو برق جسم و جاں ہو وہ آتش کیا کہ سینے میں نہاں ہو نہیں ہو اور پھر کہنے کو یاں ہو حریف بد گماں کے ہم گماں ہو تحیر فرط شوق دید سے ہوں وہیں مجھ کو بھی دیکھو تم جہاں ہو سنی جاتی ہو جب محشر میں روداد تو اپنی

محبت ہو تو برق جسم و جاں ہو Read More »

دیکھا جو مرگ تو مرنا زیاں نہ تھا

غزل دیکھا جو مرگ تو مرنا زیاں نہ تھا فانی کے بدلے ملک بقا کچھ گراں نہ تھا شب کو بغل میں تھا بھی تو وہ دلستاں نہ تھا شوخی یہ کہہ رہی تھی کہ یاں تھا وہاں نہ تھا بے وجہ منہ چھپانے سے جو تھا نہاں نہ تھا پر خیر تھی کچھ اس

دیکھا جو مرگ تو مرنا زیاں نہ تھا Read More »

اب اپنا حال ہم انہیں تحریر کر چکے

غزل اب اپنا حال ہم انہیں تحریر کر چکے خامہ سپرد کاتب تقدیر کر چکے کہتے ہیں تم وصال کی تدبیر کر چکے گویا ہمارے حق میں وہ تقدیر کر چکے تدبیر کو حوالۂ تقدیر کر چکے ہم بے زباں بھی یار سے تقریر کر چکے دل خار خار خندۂ چشم اثر ہے اب دل

اب اپنا حال ہم انہیں تحریر کر چکے Read More »

آنکھیں دکھائیں غیر کو میری خطا کے ساتھ

غزل آنکھیں دکھائیں غیر کو میری خطا کے ساتھ مطلب ادا وہ کرتے ہیں اور کس ادا کے ساتھ شوخی نگہ کے ساتھ تغافل جفا کے ساتھ عشاق پر ہجوم بلا ہے بلا کے ساتھ آخر ہوا نہ ضبط شب وصل مدعی نالہ نکل گیا مری لب سے دعا کے ساتھ تیرے ستم سے مجھ

آنکھیں دکھائیں غیر کو میری خطا کے ساتھ Read More »