MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

فرہاد کس امید پہ لاتا ہے جوئے شیر

غزل فرہاد کس امید پہ لاتا ہے جوئے شیر واں خون کی ہوس ہے نہیں آرزوئے شیر ہے اس جواں کی بات میں اب تو لہو کی باس وے دن گئے کہ آتی تھی اس منہ سے بوئے شیر ہوتے ہی صبح آہ گیا ماہ چار دہ ثابت ہوا مجھے کہ نمک ہے عدوئے شیر […]

فرہاد کس امید پہ لاتا ہے جوئے شیر Read More »

عشوہ ہے ناز ہے غمزہ ہے ادا ہے کیا ہے

غزل عشوہ ہے ناز ہے غمزہ ہے ادا ہے کیا ہے قہر ہے سحر ہے جادو ہے بلا ہے کیا ہے یار سے میری جو کرتے ہیں سفارش اغیار مکر ہے عذر ہے قابو ہے دغا ہے کیا ہے تجھ کو کس نام سے اے فخر مرے یاد کروں باپ ہے پیر ہے مرشد ہے

عشوہ ہے ناز ہے غمزہ ہے ادا ہے کیا ہے Read More »

تجھ میں اس گل سے رنگ و بو کم ہے

غزل تجھ میں اس گل سے رنگ و بو کم ہے وہ زیادہ ہے اس میں تو کم ہے ہو کوئی کیوں مغاں کا منت کش اپنا پینے کو کیا لہو کم ہے دل سے انسان کے یہ ہوتی کب ہوس و حرص و آرزو کم ہے اہل غیرت کو اے فلک کیا کچھ مرگ

تجھ میں اس گل سے رنگ و بو کم ہے Read More »

بتوں کے ساتھ طبیعت کو آشنا کر کے

غزل بتوں کے ساتھ طبیعت کو آشنا کر کے ہوئے خراب غرض دل کو مبتلا کر کے بتا تو اے فلک فتنہ کار اس بت سے لگا ہے ہاتھ ترے ہم کو کیا جدا کر کے اب آگے دیکھیے کیا نبٹے اس کے درباں سے ہم اس کے پہنچے ہیں در تک خدا خدا کر

بتوں کے ساتھ طبیعت کو آشنا کر کے Read More »

کسی بات پہ رنج خدا کی قسم نہ ادھر سے ہوا نہ ادھر سے ہوا

غزل کسی بات پہ رنج خدا کی قسم نہ ادھر سے ہوا نہ ادھر سے ہوا کسی طرح کا رنج و ملال بہم نہ ادھر سے ہوا نہ ادھر سے ہوا ہوئے یار تو راہیٔ ملک عدم یہاں روتے ہیں ان کے فراق میں ہم کھلے کیونکہ یہ حال کہ حال رقم نہ ادھر سے

کسی بات پہ رنج خدا کی قسم نہ ادھر سے ہوا نہ ادھر سے ہوا Read More »

دل کی وحشت نے وہ دیوانہ بنایا مجھ کو

غزل دل کی وحشت نے وہ دیوانہ بنایا مجھ کو دور بھاگے ہے مرا چھوڑ کے سایا مجھ کو ہاتھ اٹھانے کے نہیں عشق بتاں سے ناصح لاکھ کی ایک کہی اور نہ بکوا مجھ کو ایک تو جور بتاں دوسری یہ اور سنو چین دیتا نہیں اک دم دل شیدا مجھ کو ترک آداب

دل کی وحشت نے وہ دیوانہ بنایا مجھ کو Read More »

رچی دماغ میں ہو جس کے اس بدن کی بو

غزل رچی دماغ میں ہو جس کے اس بدن کی بو خوش آوے کب اسے نسرین و نسترن کی بو وہ جس نے سونگھی ہو اک دفعہ اس کے تن کی بو نہ عطر کی اسے بھاوے نہ یاسمن کی بو ہزار جان سے مشک ختن ہو حلقہ بگوش جو سونگھ لے کبھی اس زلف

رچی دماغ میں ہو جس کے اس بدن کی بو Read More »

خون دل یاں وقف مژگاں ہی رہا

غزل خون دل یاں وقف مژگاں ہی رہا غم ترا دست و گریباں ہی رہا قتل ہو کر بھی دل شیدا مرا تشنہ کام آب پیکاں ہی رہا کام بھی یاں ہو چکا واں چارہ گر درپئے تدبیر درماں ہی رہا کاوش دست جنوں کو نت یہاں شغل چاک جیب و داماں ہی رہا وعدے

خون دل یاں وقف مژگاں ہی رہا Read More »

کس کو ملنے کا اس کے چاؤ نہیں

غزل کس کو ملنے کا اس کے چاؤ نہیں کس کو اس شوخ سے لگاؤ نہیں کون سا دل ہے وہ کہ جس دل میں اس کے تیر نگہ کا گھاؤ نہیں مصحف رخ پہ کیونکہ ٹھہرے نظر اس میں مطلق کوئی رہاؤ نہیں دل تھا اپنا دیا جسے چاہا کچھ کسی کا ہمیں دباؤ

کس کو ملنے کا اس کے چاؤ نہیں Read More »

یوں بات کسی کی ہم کب یار اٹھاتے ہیں

غزل یوں بات کسی کی ہم کب یار اٹھاتے ہیں دل تم کو دیا اس سے لاچار اٹھاتے ہیں ہم مطلب دل چاہیں گردوں سے یہ کیا ممکن آزاد منش اس کے کب عار اٹھاتے ہیں بہکانے سے غیروں کے کیا کیجے علاج اس کا ہر بات میں وہ مجھ سے تکرار اٹھاتے ہیں منہ

یوں بات کسی کی ہم کب یار اٹھاتے ہیں Read More »