فرہاد کس امید پہ لاتا ہے جوئے شیر
غزل فرہاد کس امید پہ لاتا ہے جوئے شیر واں خون کی ہوس ہے نہیں آرزوئے شیر ہے اس جواں کی بات میں اب تو لہو کی باس وے دن گئے کہ آتی تھی اس منہ سے بوئے شیر ہوتے ہی صبح آہ گیا ماہ چار دہ ثابت ہوا مجھے کہ نمک ہے عدوئے شیر […]
فرہاد کس امید پہ لاتا ہے جوئے شیر Read More »