MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ہے بھی اور پھر نظر نہیں آتی

غزل ہے بھی اور پھر نظر نہیں آتی دھیان میں وہ کمر نہیں آتی مختصر حال درد دل یہ ہے موت اے چارہ گر نہیں آتی نیند کا کام گرچہ آنا ہے میری آنکھوں میں پر نہیں آتی بے طرح پڑتی ہے نظر ان کی خیر دل کی نظر نہیں آتی جان دینی تو ہم […]

ہے بھی اور پھر نظر نہیں آتی Read More »

یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا

غزل یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا بسمل ناز رہا کشتۂ رفتار رہا زندگی بھر مجھے مرنے سے سروکار رہا جرم نا کردہ عقوبت کا سزا وار رہا شیخ سرشار سیہ مستیٔ پندار رہا پردۂ چشم جو پاس ادب یار رہا میں رہا سامنے تو بھی پس

یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا Read More »

نہ میں سمجھا نہ آپ آئے کہیں سے

غزل نہ میں سمجھا نہ آپ آئے کہیں سے پسینہ پوچھیے اپنی جبیں سے چلی آتی ہے ہونٹوں پر شکایت ندامت ٹپکی پڑتی ہے جبیں سے اگر سچ ہے حسینوں میں تلون تو ہے امید وصل ان کی نہیں سے کہاں کی دل لگی کیسی محبت مجھے اک لاگ ہے جان حزیں سے ادھر لاؤ

نہ میں سمجھا نہ آپ آئے کہیں سے Read More »

ان سے ہم لو لگائے بیٹھے ہیں

غزل ان سے ہم لو لگائے بیٹھے ہیں آگ دل میں دبائے بیٹھے ہیں وہ جو گردن جھکائے بیٹھے ہیں حشر کیا کیا اٹھائے بیٹھے ہیں تیرے کوچے کے بیٹھنے والے اپنی ہستی مٹائے بیٹھے ہیں زور بل اف رے اس نزاکت پر خلق کا دل دکھائے بیٹھے ہیں کیوں اٹھیں ان کی بزم سے

ان سے ہم لو لگائے بیٹھے ہیں Read More »

نئے غمزے نئے انداز نظر آتے ہیں

غزل نئے غمزے نئے انداز نظر آتے ہیں دن بہ دن حسن کے اعجاز نظر آتے ہیں وہ شہید نگہ ناز نظر آتے ہیں آج کل اور ہی انداز نظر آتے ہیں سر جھکائے ہوئے چلتا ہوں ترے کوچہ میں کیونکہ سر باز ہی سر باز نظر آتے ہیں بہت اونچے نہ اڑے ہیں نہ

نئے غمزے نئے انداز نظر آتے ہیں Read More »

وقت پر آتے ہیں نہ جاتے ہیں

غزل وقت پر آتے ہیں نہ جاتے ہیں روز اقرار بھول جاتے ہیں وہ جو بے وجہ مسکراتے ہیں سیکڑوں وہم دل میں آتے ہیں اشک حسرت نکل کے دامن میں جان سے ہاتھ دھوئے آتے ہیں جب تم آتے نہیں ہو وعدہ پر ملک الموت کو بلاتے ہیں سو گیا بخت جب سے رو

وقت پر آتے ہیں نہ جاتے ہیں Read More »

جو چار آدمیوں میں گناہ کرتے ہیں

غزل جو چار آدمیوں میں گناہ کرتے ہیں خدا کی دی ہوئی عزت تباہ کرتے ہیں بتوں کے ہوتے جو مہ پر نگاہ کرتے ہیں قسم خدا کی بڑا ہی گناہ کرتے ہیں بڑا ہی ظلم خدا کی پناہ کرتے ہیں ہم آہ آہ تو وہ واہ واہ کرتے ہیں وہ بوسہ دیتے نہیں گورے

جو چار آدمیوں میں گناہ کرتے ہیں Read More »

بدلی ہوئی ہے چرخ کی رفتار آج کل

غزل بدلی ہوئی ہے چرخ کی رفتار آج کل ہے بند راست گوئی کا بازار آج کل علم و ہنر ہے ملک کو درکار آج کل ہم خود بھلے برے کے ہیں مختار آج کل ہے اور ہی طریقۂ بازار آج کل جنس نفیس کے ہیں خریدار آج کل غفلت کا دور ملک سے شاید

بدلی ہوئی ہے چرخ کی رفتار آج کل Read More »

پہلو و پشت و سینہ و رخسار آئنہ

غزل پہلو و پشت و سینہ و رخسار آئنہ ہے رزم گاہ حسن کا یہ چار آئنہ کف آئنہ بر آئنہ رخسار آئنہ ہے سر سے پاؤں تک وہ ستم گار آئنہ ہٹتا نہیں جو سامنے سے اس کے رات دن ہم سے سوا ہے طالب دیدار آئنہ یہ تو مرا رقیب ہے میں مانتا

پہلو و پشت و سینہ و رخسار آئنہ Read More »

نیک و بد کی جسے خبر ہی نہیں

غزل نیک و بد کی جسے خبر ہی نہیں شر ہے کم بخت وہ بشر ہی نہیں وہ ہیں کس حال میں خبر ہی نہیں سر بھی نیچا ہے اک نظر ہی نہیں ہاتھ خالی ہے مال و زر ہی نہیں کیا اڑیں جبکہ بال و پر ہی نہیں مے کی بابت خیال کر واعظ

نیک و بد کی جسے خبر ہی نہیں Read More »