ہے بھی اور پھر نظر نہیں آتی
غزل ہے بھی اور پھر نظر نہیں آتی دھیان میں وہ کمر نہیں آتی مختصر حال درد دل یہ ہے موت اے چارہ گر نہیں آتی نیند کا کام گرچہ آنا ہے میری آنکھوں میں پر نہیں آتی بے طرح پڑتی ہے نظر ان کی خیر دل کی نظر نہیں آتی جان دینی تو ہم […]
ہے بھی اور پھر نظر نہیں آتی Read More »