MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

اب بھی رہتا ہے خیالوں میں سمایا ہوا شخص

اب بھی رہتا ہے خیالوں میں سمایا ہوا شخص اپنی نادانی سے رستے میں گنوایا ہوا شخص میری قسمت میں نہیں تھا سو وہ میرا نہ ہوا ہائے وہ خاص عنایت سے بنایا ہوا شخص جو بھی کوشش کی بھلانے کی وہ ناکام رہی دل سے جاتا ہی نہیں دل میں سمایا ہوا شخص کتنی

اب بھی رہتا ہے خیالوں میں سمایا ہوا شخص Read More »

تجدید ہو وفا کی قرینے نہیں رہے

تجدید ہو وفا کی قرینے نہیں رہے یادوں کے قیمتی وہ خزینے نہیں رہے جن نرم راستوں سے تو اترا تھا دل میں دوست سوچوں میں اب وہ مخملی زینے نہیں رہے یہ بندگانِ خاص کا ہی صرف وصف تھا ہو علم جن کو ہضم وہ سینے نہیں رہے طے ہوتے تھے حیا سے محبت

تجدید ہو وفا کی قرینے نہیں رہے Read More »

مجھ کو اب، عشق کے ادراک، سے ڈر لگتا ہے

مجھ کو اب، عشق کے ادراک، سے ڈر لگتا ہے اب تو ہر جذبۂ بے باک سے ڈر لگتا ہے گردشِ وقت نے وہ زخم دیئے ہیں کہ مجھے رقص کرتے ہوئے ہر چاک سے ڈر لگتا ہے کیا خبر کون سے صفحے کا لکھا لے ڈوبے اس لیے دفتر افلاک سے ڈر لگتا ہے

مجھ کو اب، عشق کے ادراک، سے ڈر لگتا ہے Read More »

اُس کا خیال دل سے، اترنے کے بعد بھی

اُس کا خیال دل سے، اترنے کے بعد بھی بڑھتا گیا ہے درد، سنبھلنے کے بعد بھی ترکِ تعلقات، تھا گر میرا فیصلہ وہ کیوں ہے، میرے ساتھ بچھڑنے کے بعد بھی ہے اُس کا، لَمس میری، ہتھیلی پہ اَب تلک ہاتھوں سے ،اس کا ہاتھ، نکلنے کے بعد بھی حوّا کو، تو خدا نے،

اُس کا خیال دل سے، اترنے کے بعد بھی Read More »

گاہے گاہے فیصلہ ہوگا مری تقدیر کا –

غزل گاہے گاہے فیصلہ ہوگا مری تقدیر کاپھر بدلتا جاۓ گا یہ پیرہن تصویر کا میں نے لکھا ہے فقط جذبات کو تحریر میںتم اگر چاہو تو ہوگا فیصلہ تحریر کا پھر اگر چاہو تو سمجھو دائرے میں گھومنارقصِ عالم ہے یہ گویا حلقہ اک زنجیر کا یعنی تم جب طے کروگے عشق کی یہ

گاہے گاہے فیصلہ ہوگا مری تقدیر کا – Read More »

شورِ محشر جب یہاں اپنے تئیں سو جائے گا

غزل شورِ محشر جب یہاں اپنے تئیں سو جائے گاپھر کوئی بیدارِ شب نغمہ ترا ہی گائے گا پھر سے کوئی جستجو کرتا ہوا جو پائے گاپھر اسی کے ہاتھ میں قسمت کا لکھا جائے گا شب جو گزرے گی کسی کی یوں غزل کہتے ہوئےخواب آنکھوں میں کسی کے پھر اترتا جائے گا جب

شورِ محشر جب یہاں اپنے تئیں سو جائے گا Read More »

کبھی یوں بھی ہوتا ہے زیست میں

نظم کبھی یوں بھی ہوتا ہے زیست میںجسے عمر بھر کا ریاض دووہ جو وحشتوں کا حواس ہووہ جو خواہشوں کا جواز ہوجو سکوں کا میٹھا سا ساز ہووہی ہم نفس کسی موڑ پرہاں بلا سبب یوں ہی چھوڑ کرنئے راستوں پہ وہ چل پڑےجہاں چاہتوں میں ہیں بل پڑےتری ہار میں تری جیت میںکبھی

کبھی یوں بھی ہوتا ہے زیست میں Read More »

قیاس اور صحرا

نظم اب کے آنگن میں ترے شام جو اتری ہوگیاس کے پہلو میں اگر دیکھو دکھائی دے گیہولے ہولے سے وہیں پاس سلگتی مری یادایک جھونکے سے ہوا ہوکے بھڑک جائے گی دور ساحل پہ کہیں بیٹھ کے تو بھی تنہاریت پر لکھ کے مرا نام مٹاتی ہوگیآسماں سے تو اداسی کے چراتے ہوئے رنگکوئی

قیاس اور صحرا Read More »

کتنی وحشت ہے اس کے چہرے پر

کتنی وحشت ہے اس کے چہرے پرکتنی مدت سے وہ نہیں سویاکتنا الجھا ہوا سا رہتا ہےاتنا خاموش بھی نہیں لیکناس کے ماضی کا عکس ہے یعنیاک دیا تیرگی میں جلتا ہواآرزو کل سے اس کی وابستہحال بے نام سی سزائے عشقہے یہ انجام کی خلش شایدوقت کی ہے کوئی روش شایدحادثہ حادثہ ہے میت

کتنی وحشت ہے اس کے چہرے پر Read More »

آزاد بنو

نظم کیا بات سنو گے ان کی تمکیا جانیں دو گے پھر سے تمیہ لیڈر چور و ڈاکو ہیںیہ کھوٹے سکے مہرے ہیںپامال کریں گے عزت کوبد حال کریں گے یہ تم کویہ رسوائی کی دلدل میںبس جھونک کے تم کو دم لیں گےان کھوکھلے جھوٹے نعروں میںہے مطلب ان کا پوشیدہاک ووٹ کی خاطر

آزاد بنو Read More »