MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

وہ ہے اچھا بھلا بھی اور نہیں بھی

وہ ہے اچھا بھلا بھی اور نہیں بھی
کہیں جس کو بُرا بھی اور نہیں بھی

خبر رکھتا ہے میری جانتا ہُوں
اُسے ہوگا پتہ بھی اور نہیں بھی

کریں تو کیا کریں بیمار اُس کے
وہی دے گا دوا بھی اور نہیں بھی

اندھیرا بزم میں روشن ہُوا ہے
چراغِ دل بُجھا بھی اور نہیں بھی

کبھی مدہوش بھی ہُوں ہوش میں بھی
مُجھے میرا پتہ بھی اور نہیں بھی

حقیقت خُوش گُمانی ساتھ لائی
گرا میں تواُٹھا بھی اور نہیں بھی

فقط آنسو گرائے اپنے خط پر
یوں اُس نے کُچھ لکھا بھی اور نہیں بھی

ڈرامائی بہت ہے عشق میں وہ
لگے مُجھ سے خفا بھی اور نہیں بھی

بہانہ خار کے چُبھنے کا کرکے
مری خاطر رُکا بھی اور نہیں بھی

زمیں جاوید مُشکل تھی غزل کی
مجھے ایسا لگا بھی اور نہیں بھی

جاوید احمد خان جاوید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم