MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

خوشبو سا بدن یاد نہ سانسوں کی ہوا یاد

خوشبو سا بدن یاد نہ سانسوں کی ہوا یاداجڑے ہوئے باغوں کو کہاں باد صبا یاد آتی ہے پریشانی تو آتا ہے خدا یادورنہ نہیں دنیا میں کوئی تیرے سوا یاد جو بھولے سے بھولے ہیں مگر تیرے علاوہاک بچھڑا ہوا دل ہمیں آتا ہے سدا یاد میں تو ہوں اب اک عمر سے پچھتاووں

خوشبو سا بدن یاد نہ سانسوں کی ہوا یاد Read More »

یہ جو زندگی ہے یہ کون ہے

یہ جو زندگی ہے یہ کون ہےیہ جو بے بسی ہے یہ کون ہے یہ تمہارے لمس کو کیا ہوایہ جو بے حسی ہے یہ کون ہے وہ جو میرے جیسا تھا کون تھایہ جو آپ سی ہے یہ کون ہے مرے چار سو مرے چار سویہ جو بیکلی ہے یہ کون ہے مرے انگ

یہ جو زندگی ہے یہ کون ہے Read More »

گر دعا بھی کوئی چیز ہے تو دعا کے حوالے کیا

گر دعا بھی کوئی چیز ہے تو دعا کے حوالے کیاجا تجھے آج سے ہم نے اپنے خدا کے حوالے کیا ایک مدت ہوئی ہم نے دنیا کی ہر ایک ضد چھوڑ دیایک مدت ہوئی ہم نے دل کو وفا کے حوالے کیا اس طرح ہم نے تیری محبت زمانے کے ہاتھوں میں دیجس طرح

گر دعا بھی کوئی چیز ہے تو دعا کے حوالے کیا Read More »

موت کا وقت گزر جائے گا

موت کا وقت گزر جائے گایہ بھی سیلاب اتر جائے گا آ گیا ہے جو کسی سکھ کا خیالمجھ کو چھوئے گا تو مر جائے گا کیا خبر تھی مرا خاموش مکاںاپنی آواز سے ڈر جائے گا آ گیا ہے جو دکھوں کا موسمکچھ نہ کچھ تو کہیں دھر جائے گا جھوٹ بولے گا تو

موت کا وقت گزر جائے گا Read More »

کبھی سحر تو کبھی شام لے گیا مجھ سے

کبھی سحر تو کبھی شام لے گیا مجھ سےتمہارا درد کئی کام لے گیا مجھ سے مجھے خبر نہ ہوئی اور زمانہ جاتے ہوئےنظر بچا کے ترا نام لے گیا مجھ سے اسے زیادہ ضرورت تھی گھر بسانے کیوہ آ کے میرے در و بام لے گیا مجھ سے بھلا کہاں کوئی جز اس کے

کبھی سحر تو کبھی شام لے گیا مجھ سے Read More »

تو نے دیکھا ہے کبھی ایک نظر شام کے بعد

تو نے دیکھا ہے کبھی ایک نظر شام کے بعدکتنے چپ چاپ سے لگتے ہیں شجر شام کے بعد اتنے چپ چاپ کہ رستے بھی رہیں گے لا علمچھوڑ جائیں گے کسی روز نگر شام کے بعد میں نے ایسے ہی گنہ تیری جدائی میں کئےجیسے طوفاں میں کوئی چھوڑ دے گھر شام کے بعد

تو نے دیکھا ہے کبھی ایک نظر شام کے بعد Read More »

دل میں اک شام سی اتارتی ہے

دل میں اک شام سی اتارتی ہےخامشی اب مجھے پکارتی ہے کیسے ویران ساحلوں کی ہواریت پر زندگی گزارتی ہے تجھ سے ہم دور رہ نہیں سکتےکوئی بے چینی ہم کو مارتی ہے کھیلتی ہے مرے دکھوں کے ساتھزندگی کس قدر شرارتی ہے ہے محبت تو بس محبت ہےجیت جاتی ہے اب یا ہارتی ہے

دل میں اک شام سی اتارتی ہے Read More »

مکانِ ہجر کی تشکیل کرنے والی تھی

مکانِ ہجر کی تشکیل کرنے والی تھی میں خوابِ وصل کی تذلیل کرنے والی تھی سکوں طراز تھا اک عشق جس کے پہلو میں بیان درد کی تفصیل کرنے والی تھی میں تیری یاد کے جگنو سے روشنی لے کر فضا ئے درد کو قندیل کرنے والی تھی لبوں پہ ٹوٹتی دم توڑتی دعاؤ ں

مکانِ ہجر کی تشکیل کرنے والی تھی Read More »

برا ئے مرگ سنوارا ھے زندگی نے مجھے

برا ئے مرگ سنوارا ھے زندگی نے مجھے کس اہتمام سے مارا ھے زندگی نے مجھے یہاں تو فرصتِ ہستی کا ایک پل بھی نہیں یہ کس زمیں پہ اتارا ھے زندگی نے مجھے جو تیری چاہ میں گزری وہ زندگی تھی مری پھر اس کے بعد گزارا ھے زندگی نے مجھے میں تیری یاد

برا ئے مرگ سنوارا ھے زندگی نے مجھے Read More »

جانے یہ کیسا ماجرا ھے میاں

جانے یہ کیسا ماجرا ھے میاں مجھ میں سب کچھ مرے سوا ھے میاں میرے ہی لفظ اور مرا لہجہ مجھ میں یہ کون لب کشا ھے میاں درِ دل پر ہجوم کرتی یاد یہ ترے ہجر سے سوا ھے میاں تیرے بیمار کو افاقہ نہیں ہاتھ سینے ہی پر دھرا ھے میاں یہ جو

جانے یہ کیسا ماجرا ھے میاں Read More »