MOJ E SUKHAN

دل میں اک شام سی اتارتی ہے

دل میں اک شام سی اتارتی ہے
خامشی اب مجھے پکارتی ہے

کیسے ویران ساحلوں کی ہوا
ریت پر زندگی گزارتی ہے

تجھ سے ہم دور رہ نہیں سکتے
کوئی بے چینی ہم کو مارتی ہے

کھیلتی ہے مرے دکھوں کے ساتھ
زندگی کس قدر شرارتی ہے

ہے محبت تو بس محبت ہے
جیت جاتی ہے اب یا ہارتی ہے

روز اک نقش کو ابھارتی ہے
ان کہی روپ کتنے دھارتی ہے

کاروباری ہیں اس کی باتیں بھی
اس کی مسکان بھی تجارتی ہے

فرحت عباس شاہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم