MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

یہ عجب ساعت رخصت ہے کہ ڈر لگتا ہے

یہ عجب ساعت رخصت ہے کہ ڈر لگتا ہےشہر کا شہر مجھے رخت سفر لگتا ہے رات کو گھر سے نکلتے ہوئے ڈر لگتا ہےچاند دیوار پے رکھا ہوا سر لگتا ہے ہم کو دل نے نہیں حالات نے نزدیک کیادھوپ میں دور سے ہر شخص شجر لگتا ہے جس پہ چلتے ہوئے سوچا تھا

یہ عجب ساعت رخصت ہے کہ ڈر لگتا ہے Read More »

بہادر کسان

حفیظ جالندھری کی بچوں کے لیے ایک خوبصورت نظم سویرے اندھیرے اندھیرے اٹھالیے بیل کھیتوں کی جانب چلاہے سارا زمانہ ابھی سو رہامگر اس کا یہ وقت ہے کام کااسے ہر گھڑی کام ہی کا دھیانبڑا محنتی ہے بہادر کسان کبھی بیل کا دل بڑھاتا ہُواکبھی موڑتا اور ہنکاتا ہُواکبھی ہل کی ہتھی دباتا ہُوایہ

بہادر کسان Read More »

میری تنہائی بڑھاتے ہیں چلے جاتے ہیں

میری تنہائی بڑھاتے ہیں چلے جاتے ہیںہنس تالاب پہ آتے ہیں چلے جاتے ہیں اس لیے اب میں کسی کو نہیں جانے دیتاجو مجھے چھوڑ کے جاتے ہیں چلے جاتے ہیں میری آنکھوں سے بہا کرتی ہے ان کی خوشبورفتگاں خواب میں آتے ہیں چلے جاتے ہیں شادیٔ مرگ کا ماحول بنا رہتا ہےآپ آتے

میری تنہائی بڑھاتے ہیں چلے جاتے ہیں Read More »

پانی آنکھ میں بھر کر لایا جا سکتا ہے

پانی آنکھ میں بھر کر لایا جا سکتا ہےاب بھی جلتا شہر بچایا جا سکتا ہے ایک محبت اور وہ بھی ناکام محبتلیکن اس سے کام چلایا جا سکتا ہے دل پر پانی پینے آتی ہیں امیدیںاس چشمے میں زہر ملایا جا سکتا ہے مجھ گمنام سے پوچھتے ہیں فرہاد و مجنوںعشق میں کتنا نام

پانی آنکھ میں بھر کر لایا جا سکتا ہے Read More »

ہنسنے نہیں دیتا کبھی رونے نہیں دیتا

ہنسنے نہیں دیتا کبھی رونے نہیں دیتایہ دل تو کوئی کام بھی ہونے نہیں دیتا تم مانگ رہے ہو مرے دل سے مری خواہشبچہ تو کبھی اپنے کھلونے نہیں دیتا میں آپ اٹھاتا ہوں شب و روز کی ذلتیہ بوجھ کسی اور کو ڈھونے نہیں دیتا وہ کون ہے اس سے تو میں واقف بھی

ہنسنے نہیں دیتا کبھی رونے نہیں دیتا Read More »

دشت میں پیاس بجھاتے ہوئے مر جاتے ہیں

دشت میں پیاس بجھاتے ہوئے مر جاتے ہیںہم پرندے کہیں جاتے ہوئے مر جاتے ہیں ہم ہیں سوکھے ہوئے تالاب پہ بیٹھے ہوئے ہنسجو تعلق کو نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں گھر پہنچتا ہے کوئی اور ہمارے جیساہم ترے شہر سے جاتے ہوئے مر جاتے ہیں کس طرح لوگ چلے جاتے ہیں اٹھ کر چپ

دشت میں پیاس بجھاتے ہوئے مر جاتے ہیں Read More »

جو بھی من جملۂ اشجار نہیں ہو سکتا

جو بھی من جملۂ اشجار نہیں ہو سکتاکچھ بھی ہو جائے مرا یار نہیں ہو سکتا اک محبت تو کئی بار بھی ہو سکتی ہےایک ہی شخص کئی بار نہیں ہو سکتا جس سے پوچھیں ترے بارے میں یہی کہتا ہےخوب صورت ہے وفادار نہیں ہو سکتا عباس تابش Add languages

جو بھی من جملۂ اشجار نہیں ہو سکتا Read More »

ایک پودا اور گھاس

اسماعیل میرٹھی کی بچوں کے لیے ایک نظم اتفاقاً ایک پودا اور گھاسباغ میں دونوں کھڑے ہیں پاس پاسگھاس کہتی ہے اسے ، میرے رفیق!کیا انوکھا ہے اس جہاں کا طریقہے ہماری اور تمہاری ایک ذاتایک قدرت سے ہے دونوں کی حیاتمٹی اور پانی ، ہوا اور روشنیواسطے دونوں کے یکساں ہے بنیتجھ پہ لیکن

ایک پودا اور گھاس Read More »

ہجر کی رات چھوڑ جاتی ہے

ہجر کی رات چھوڑ جاتی ہےنت نئی بات چھوڑ جاتی ہے عشق چلتا ہے تا ابد لیکنزندگی ساتھ چھوڑ جاتی ہے دل بیابانی ساتھ رکھتا ہےآنکھ برسات چھوڑ جاتی ہے چاہ کی اک خصوصیت ہے کہ یہمستقل مات چھوڑ جاتی ہے مرحلے اس طرح کے بھی ہیں کہ جبذات کو ذات چھوڑ جاتی ہے ہجر

ہجر کی رات چھوڑ جاتی ہے Read More »

کہا میں کہاں ہو تم

کہا میں کہاں ہو تمجواب آیا جہاں ہو تم مرے جیون سے ظاہر ہومرے غم میں نہاں ہو تم مری تو ساری دنیا ہومرا سارا جہاں ہو تم مری سوچوں کے محور ہومرا زور بیاں ہو تم میں تو لفظ محبت ہوںمگر میری زباں ہو تم فرحت عباس شاہ

کہا میں کہاں ہو تم Read More »