وحشتوں کے صحرا میں روشنی کے لانے تک
وحشتوں کے صحرا میں روشنی کے لانے تکزیست بےاماں گذری اک تجھےمنانے تک تھی رفاقتیں کیسی تیرے ساتھ ہی گزریںجانے کیا کیا کھویا ہے اک تجھےمنانے تک رقص کرتی ہیں لہریں وجد میں ہے دریا بھیان کے پاوں چھونے تک ان کے بھیگ جانے تک اس کی یہ تمنا تھی اس کے میں صفت لکھوںمیں
وحشتوں کے صحرا میں روشنی کے لانے تک Read More »
