MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

وحشتوں کے صحرا میں روشنی کے لانے تک

وحشتوں کے صحرا میں روشنی کے لانے تکزیست بےاماں گذری اک تجھےمنانے تک تھی رفاقتیں کیسی تیرے ساتھ ہی گزریںجانے کیا کیا کھویا ہے اک تجھےمنانے تک رقص کرتی ہیں لہریں وجد میں ہے دریا بھیان کے پاوں چھونے تک ان کے بھیگ جانے تک اس کی یہ تمنا تھی اس کے میں صفت لکھوںمیں

وحشتوں کے صحرا میں روشنی کے لانے تک Read More »

تمام عمر رلایا رلا کے چھوڑ دیا

تمام عمر رلایا رلا کے چھوڑ دیابہانہ ایس بنایا بنا ے چھوڑ دیا یہ فاصلوں کا نگر ہے اسی سبب مجھ کواشارہ کر کے بلا یا بلا کے چھوڑدیا ۔جگر کا خون بھی ہوجائے اس سے ان کو کیالبوں کو ہنسنا سکھا یا سکھا کے چھو ڑ دیا کوئی کرن میرے انگن میں اج اترے

تمام عمر رلایا رلا کے چھوڑ دیا Read More »

فصل گل کا ہوا جب دور سویرا آہا

فصل گل کا ہوا جب دور سویرا آہاسنگ اٹھائے ہوے ایا ہے اندھیرا آہا جگ ہنسائی میری ہوتی رہی گلیوں گلیوںریزہ ریزہ میرے جب دل کا بکھیرا آہا راستہ خود ہی بنا لیتا ہے چلتا پانیآور سمندر کے کناروں نے پکارا آہا جو مکاں اچ مکینوں سے ہیں خالی خالیکتنی روحوں کا یہاں ہوگا بسیرا

فصل گل کا ہوا جب دور سویرا آہا Read More »

سفر کا خوف تھا دل میں تو پھر چلے ہی کیوں

سفر کا خوف تھا دل میں تو پھر چلے ہی کیوںپہنچ کے منزل جاناں پہ یہ گلے ہی کیوں خموشیوں کی بدولت اماں ملی تو مگرملال عمر بھر یہ تھا کہ لب سلے ہی کیوں ہر ایک خواب کی تعبیر جب بچھڑنا تھاتو پھر بتائیے ہم اپ سے ملے ہی کیوں اگر خبر تھی کہ

سفر کا خوف تھا دل میں تو پھر چلے ہی کیوں Read More »

پہلا سا لطف شامِ چراغاں نہیں رہا

پہلا سا لطف شامِ چراغاں نہیں رہاکیا اب میری تلاش میں طوفاں نہیں رہا ہم حد اختیار سے اگے نکل گئےاپ واپسی کا کوئی بھی امکاں نہی رہا مجھ سے بچھڑ کے یہ بھی اذیت کی بات ہےتو بھی بھری بہار میں شاداں نہیں رہا ائے رحمتِ تمام میں نادم ہوں مانگ کرمجھ کو خیالِ

پہلا سا لطف شامِ چراغاں نہیں رہا Read More »

دنیائے اردو کا معتبر حوالہ شفیق مراد ایک شاعر ایک وکیل

انٹرویو۔ علی شاہ۔منکیرہ سوال۔آپ کا مختصر تعارفجواب۔میرا نام شفیق احمد قمر ہے ۔جبکہ قلمی نام شفیق مراد ؔ ہے۔ 1960 میں لاہور میں پیدا ہوا۔پنجاب یورنیورسٹی سے گریجویشن کرنے کے بعد پنجاب یورنیورسٹی لاء کالج لاہور سے قانون کی تعلیم حاصل کی اور 1983میں شعبہ وکالت سے منسلک ہو گیا۔1987میں جرمنی آگیا اور یہیں مستقل

دنیائے اردو کا معتبر حوالہ شفیق مراد ایک شاعر ایک وکیل Read More »

سکھائیں گے ہمیں آداب وہ یہاں لوگو !

سکھائیں گے ہمیں آداب وہ یہاں لوگو ! کہ جن کے طرز سے ڈرتا ہے اک جہاں لوگو ! ابھی سےچیخ اُٹھے ہو یہاں خلاف جو تم ابھی تو ہم ہوئے تم پر کہاں عیاں لوگو ! کسے گھمنڈ کسے ناز ہے یہاں خود پر تمھی کہو کہ یہاں تم ہو کہکشاں لوگو! بہت حسین

سکھائیں گے ہمیں آداب وہ یہاں لوگو ! Read More »

یہاں جو قد سے اونچا لگ رہا ہے

یہاں جو قد سے اونچا لگ رہا ہے تماشہ بھی اُسی کا لگ رہا ہے مُجھے کیا چہرے پڑھنے آ گئے ہیں جو سارا شہر جھوٹا لگ رہا ہے زرا پہچان لوں تو لکھ بھی دوں گی کہاں تک کون سچا لگ رہا ہے بھلے یہ آئینہ مجھ پر ہی ہنس دے مجھے ہر عکس

یہاں جو قد سے اونچا لگ رہا ہے Read More »

تمھارے بعد جینے کا ارادہ اُور کرتے ہیں

تمھارے بعد جینے کا ارادہ اُور کرتے ہیں نئی ترتیب سے خود کو نکھارا اور کرتے ہیں وہ راہیں چھوڑ دو جس پر تمھیں منزل نہیں ملتی چلو اٹھو کوئی روشن ستارا اور کرتے ہیں بہت تنہائی میں ڈھونڈا یہاں خود کو مگر پھر بھی جہاں غم ہو وہاں خود کو پکارا اُورکرتے ہیں میں

تمھارے بعد جینے کا ارادہ اُور کرتے ہیں Read More »

کہیں زمیں تو کہیں آسمان ہے عورت

کہیں زمیں تو کہیں آسمان ہے عورت حیا کے ساتھ ہے تو اک جہان ہے عورت کہیں نشاں توکہیں بے نشانیاں اس کی ہے داستاں تو کہیں رازدان ہے عورت کبھی کبھی تو سمیٹے ہوئے وہ سسکیوں کو بہت خموش ہے لیکن بیان ہے عورت بہن ہے بیوی ہے اور ہے یہاں پہ اک بیٹی

کہیں زمیں تو کہیں آسمان ہے عورت Read More »