MOJ E SUKHAN

فصل گل کا ہوا جب دور سویرا آہا

فصل گل کا ہوا جب دور سویرا آہا
سنگ اٹھائے ہوے ایا ہے اندھیرا آہا

جگ ہنسائی میری ہوتی رہی گلیوں گلیوں
ریزہ ریزہ میرے جب دل کا بکھیرا آہا

راستہ خود ہی بنا لیتا ہے چلتا پانی
آور سمندر کے کناروں نے پکارا آہا

جو مکاں اچ مکینوں سے ہیں خالی خالی
کتنی روحوں کا یہاں ہوگا بسیرا آہا

ایک عرصہ ہو اس دل کو دکھا کر تو نے
کر لیا مجھ سے بتا کیسے کنارا آہا

میرے گاوں کے حسیں اس نے مناظر چھینے
اور چوپال کو بھی اس نے جلایا آہا

ہائے امید کی کشتی کو جلاکر تو نے
توڑ ڈالاہے محبت کا بھروسہ آہا

مستئی شوق سے جذبات کی شدت کو فنا
عشق کی انکھ سے جذبات کوسنوارا آہا

سید ظہیر فنا شموگا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم