فصل گل کا ہوا جب دور سویرا آہا
سنگ اٹھائے ہوے ایا ہے اندھیرا آہا
جگ ہنسائی میری ہوتی رہی گلیوں گلیوں
ریزہ ریزہ میرے جب دل کا بکھیرا آہا
راستہ خود ہی بنا لیتا ہے چلتا پانی
آور سمندر کے کناروں نے پکارا آہا
جو مکاں اچ مکینوں سے ہیں خالی خالی
کتنی روحوں کا یہاں ہوگا بسیرا آہا
ایک عرصہ ہو اس دل کو دکھا کر تو نے
کر لیا مجھ سے بتا کیسے کنارا آہا
میرے گاوں کے حسیں اس نے مناظر چھینے
اور چوپال کو بھی اس نے جلایا آہا
ہائے امید کی کشتی کو جلاکر تو نے
توڑ ڈالاہے محبت کا بھروسہ آہا
مستئی شوق سے جذبات کی شدت کو فنا
عشق کی انکھ سے جذبات کوسنوارا آہا
سید ظہیر فنا شموگا