MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

وحشتوں کے صحرا میں روشنی کے لانے تک

وحشتوں کے صحرا میں روشنی کے لانے تک
زیست بےاماں گذری اک تجھےمنانے تک

تھی رفاقتیں کیسی تیرے ساتھ ہی گزریں
جانے کیا کیا کھویا ہے اک تجھےمنانے تک

رقص کرتی ہیں لہریں وجد میں ہے دریا بھی
ان کے پاوں چھونے تک ان کے بھیگ جانے تک

اس کی یہ تمنا تھی اس کے میں صفت لکھوں
میں نے پھول بھیجے ہیں اس کے مسکرانے تک

ان کے مسکرانے سے شوخیاں بکھرتی ہیں
میرے اس گھروندے سے ان کے اشیانے تک

شدت طلب اتنی بڑھ گئی فنا میری
میں غزل سناوں گا اس کے لوٹ انے تک

سید ظہیر فنا شموگا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم