آتے آتے مرا نام سا رہ گیا
آتے آتے مرا نام سا رہ گیااس کے ہونٹوں پہ کچھ کانپتا رہ گیا رات مجرم تھی دامن بچا لے گئیدن گواہوں کی صف میں کھڑا رہ گیا وہ مرے سامنے ہی گیا اور میںراستے کی طرح دیکھتا رہ گیا جھوٹ والے کہیں سے کہیں بڑھ گئےاور میں تھا کہ سچ بولتا رہ گیا آندھیوں
آتے آتے مرا نام سا رہ گیا Read More »