MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

آتے آتے مرا نام سا رہ گیا

آتے آتے مرا نام سا رہ گیااس کے ہونٹوں پہ کچھ کانپتا رہ گیا رات مجرم تھی دامن بچا لے گئیدن گواہوں کی صف میں کھڑا رہ گیا وہ مرے سامنے ہی گیا اور میںراستے کی طرح دیکھتا رہ گیا جھوٹ والے کہیں سے کہیں بڑھ گئےاور میں تھا کہ سچ بولتا رہ گیا آندھیوں

آتے آتے مرا نام سا رہ گیا Read More »

اپنے ہر ہر لفظ کا خود آئنہ ہو جاؤں گا

اپنے ہر ہر لفظ کا خود آئنہ ہو جاؤں گااس کو چھوٹا کہہ کے میں کیسے بڑا ہو جاؤں گا تم گرانے میں لگے تھے تم نے سوچا ہی نہیںمیں گرا تو مسئلہ بن کر کھڑا ہو جاؤں گا مجھ کو چلنے دو اکیلا ہے ابھی میرا سفرراستہ روکا گیا تو قافلہ ہو جاؤں گا

اپنے ہر ہر لفظ کا خود آئنہ ہو جاؤں گا Read More »

ماں کا خواب

علامہ اقبال کی بچوں کے لیے بہت پیاری نظم میں سوئی جو اک شب تو دیکھا یہ خواببڑھا اور جس سے مرا اضطرابیہ دیکھا کہ میں جا رہی ہوں کہیںاندھیرا ہے اور راہ ملتی نہیںلرزتا تھا ڈر سے مرا بال بالقدم کا تھا دہشت سے اٹھنا محالجو کچھ حوصلہ پا کے آگے بڑھیتو دیکھا قطار

ماں کا خواب Read More »

ایک مکڑا اور مکھی

علامہ اقبال کی بچوں کے لیے بہت مفید نظم ایک مکڑا اور مکھی (ماخوذ) بچوں کے لیے اک دن کسی مکھی سےیہ کہنے لگا مکڑااس راہ سے ہوتا ہے گزر روز تمہارالیکن مری کٹیا کی نہ جاگی کبھی قسمتبھُولے سے کبھی تم نے یہاں پاؤں نہ رکھاغیروں سے نہ ملیے تو کوئی بات نہیں ہےاپنوں

ایک مکڑا اور مکھی Read More »

اک ملاقات کے اثر میں رہے

اک ملاقات کے اثر میں رہے عمر بھر ایک ہی سفر میں رہے بھیڑ یوں بھی ہمیں پسند نہ تھی کم نہیں ہے کے اک نظر میں رہے لوگ اوروں کے بل پہ اُڑتے تھے ہم مگر اپنے بال و پر میں رہے وہ بھی تو انتخاب ِ خاص ہی ہے ہم بھی فہرست ِ

اک ملاقات کے اثر میں رہے Read More »

نہ جانے کتنی بلاؤں کا اُس پہ پہرا ہے

نہ جانے کتنی بلاؤں کا اُس پہ پہرا ہے وہ پیڑ جس کا کے سایہ بہت ہی گہرا ہے میں اُس کو پیار کروں بھی تو کر نہیں سکتی اک ایسا شخص مرے گھر میں آکے ٹھہرا ہے اُتر گئے بھی تو پتھر ہی چن کے لاؤگے تمہاری سوچ کا دریا اگرچہ گہرا ہے جہاں

نہ جانے کتنی بلاؤں کا اُس پہ پہرا ہے Read More »

ہم گئے ہیں جان سے کن کے لیے

ہم گئے ہیں جان سے کن کے لیے روتے ہیں دن رات اب جن کے لیے تھی ضمانت اُن کی رکھیں گے وہ دل آج ہیں رنجیدہ ضامِن کے لیے ہم نے تو ہنس کر سہے اِن کے ستم بے وفا نے بدلے کیوں گِن کے لیے جاگ کر ہم نے گزاری کالی رات جاگنا

ہم گئے ہیں جان سے کن کے لیے Read More »

محفلیں سجتی تھیں دل میں ہائے ویراں ہو گئیں

محفلیں سجتی تھیں دل میں ہائے ویراں ہو گئیں بے وفا کے جانے سے نظریں پریشاں ہو گئیں اس کے آنے کا تصور کس قدر ہے خوش جمالایسا لگتا ہے کہ شمعیں کچھ فروزاں ہو گئیں بدلے یوں حالات کہ اب شرم ہے نا کچھ لحاظ بیبیاں جامے سے باہر ہو کے عریاں ہو گئیں

محفلیں سجتی تھیں دل میں ہائے ویراں ہو گئیں Read More »

محبت ہے لیکن جتاتی نہیں میں

محبت ہے لیکن جتاتی نہیں میں ہتھیلی پہ سرسوں جماتی نہیں میں چھلک اُٹھتیں آنکھیں سرِ بزم ِیاراں اگر زیرِلب مسکراتی نہیں میں لہو رنگ بن کر اُبھرتا اُفق پر اگر حال دل کا سناتی نہیں میں چراغوں کی مانند جل جاتیں آنکھیں اگر چند آنسو بہاتی نہیں میں اندھیروں کے ڈر سے اُجالوں کی

محبت ہے لیکن جتاتی نہیں میں Read More »

عورت

محبت محبت محبت ہے عورت سمجھ لو کہ دنیا میں جنت ہے عورت یہ عورت ہے ماں اور عورت ہے بیٹی یہ عورت بہن ہے یہ عورت ہے بیوی مگر اس کو سمجھیں نا پیروں کی جوتی ہر اک روپ میں سب کی راحت ہے عورت محبت محبت محبت ہے عورت ہے عورت کے دم

عورت Read More »