MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ظلم کی ہر داستاں لکھتی رہی

ظلم کی ہر داستاں لکھتی رہی ظالموں کے درمیاں لکھتی رہی مُنتشر ہے کارواں لکھتی رہی بے خطر اور بے تکاں لکھتی رہی اس قدر تھا مجھ کو پاسِ مصلحت بد گماں کو خوش گماں لکھتی رہی یہ کمالِ خود فریبی دیکھیے میں قفس کو آشیاں لکھتی رہی بزدلی تھی یا شرافت تھی مری دھوپ

ظلم کی ہر داستاں لکھتی رہی Read More »

کچھ اشکِ ندامت بہا کر تو دیکھو

کچھ اشکِ ندامت بہا کر تو دیکھو تم اک بار اسکو منا کر تو دیکھو یہ گلدان خالی برے لگ رہے ہیں کبھی پھول اِن میں سجا کر تو دیکھو وہ خود فاش کر دیگا ہر راز ِ ہستی زرا ناز اُسکے اُٹھا کر تو دیکھو سکھا دونگی میں دشمنی کا سلیقہ مجھے اپنا دشمن

کچھ اشکِ ندامت بہا کر تو دیکھو Read More »

زمانے سے داد ِہنر چاہتی ہوں

زمانے سے داد ِہنر چاہتی ہوں یہ ممکن نہیں ہے مگر چاہتی ہوں گزارا تھا میں نے جہاں اپنا بچپن وہ گلیاں وہ کُوچے وہ گھر چاہتی ہوں کچھ آنسو تو رہنے دو آنکھوں میں میری میں تھوڑا سا زاد ِسفر چاہتی ہوں محبت جہاں رقص کرتی ہو ہر پل میں خوابوں کا ایسا نگر

زمانے سے داد ِہنر چاہتی ہوں Read More »

رہِ وفا میں چراغ کتنے جلائے میں نے

رہِ وفا میں چراغ کتنے جلائے میں نےہزاروں پتھر اسی خطا پر ہیں کھائے میں نے یہ خشک آنکھیں یہ ہونٹ ساکن یہ ضبط ِ وحشت وفا کی خاطر عزاب کتنے اُٹھائے میں نے وہ مست آنکھیں ، وہ ہونٹ لرزاں ، گلاب چہرہ سلگتی آنکھوں کو خواب کتنے دکھائے میں نے نجانے مجھ سے

رہِ وفا میں چراغ کتنے جلائے میں نے Read More »

اب بھی دیئے میں جان بہت ہے

اب بھی دیئے میں جان بہت ہے تیز ہوا حیران بہت ہے چلنا بھی ہے تنہا مجھ کو رستہ بھی سُنسان بہت ہے لوگو اپنے خواب نہ بیچو اس میں تو نقصان بہت ہے ہونٹ اگرچہ سی رکھے ہیں سینے میں طوفان بہت ہے اُس کی یادیں ، اُس کی خوشبو زیست کو یہ سامان

اب بھی دیئے میں جان بہت ہے Read More »

حیواں ہے نہ وہ انساں جن ہے نہ وہ پری ہے

حیواں ہے نہ وہ انساں جن ہے نہ وہ پری ہےسینہ میں اس کے ہر دم اک آگ سی بھری ہے کھا کے آگ پانی چنگھاڑ مارتی ہےسر سے دھوئیں اڑا کر غصہ اتارتی ہے وہ گھورتی گرجتی بھرتی ہے اک سپاٹاہفتوں کی منزلوں کو گھنٹوں میں اس نے کاٹا آتی ہے شور کرتی جاتی

حیواں ہے نہ وہ انساں جن ہے نہ وہ پری ہے Read More »

ایک بچہ اور جگنو

(اسماعیل میرٹھی) سناؤں تمہیں بات اک رات کیکہ وہ رات اندھیری تھی برسات کی چمکنے سے جگنو کے تھا ایک سماںہوا پر اُڑیں جیسے چنگاریاں پڑی ایک بچے کی ان پر نظرپکڑ ہی لیا ایک کو دوڑ کر چمک دار کیڑا جو بھایا اسےتو ٹوپی میں جھٹ پٹ چھپایا اُسے وہ جھم جھم چمکتا پھراکوئی

ایک بچہ اور جگنو Read More »

کوئی پہاڑ يہ کہتا تھا اک گلہری سے

کوئی پہاڑ يہ کہتا تھا اک گلہری سےتجھے ہو شرم تو پانی ميں جا کے ڈوب مرے ذرا سی چيز ہے ، اس پر غرور ، کيا کہنايہ عقل اور يہ سمجھ ، يہ شعور ، کيا کہنا ! خدا کی شان ہے ناچيز چيز بن بيٹھيںجو بے شعور ہوں يوں باتميز بن بيٹھيں تری

کوئی پہاڑ يہ کہتا تھا اک گلہری سے Read More »

اُردو میں بچّوں کا ادب

اُردو میں بچّوں کا ادب ، جنوبی ایشیا کی ایک لسانی و ادبی حقیقت (مختصر اظہاریہ) تحریر: پروفیسرڈاکٹرمجیب ظفر انوار حمیدی ادبِ اطفال سے رُو گردانی، اپنی ثقافت سے محرومی ہوگی!اُردو زبان میں بچوں کے لئے کتب لکھنے کی ابتدا مغل بادشاہ اورنگ زیب عالم گیر کے عہد سے ہوئی ۔اس دور میں سب سے

اُردو میں بچّوں کا ادب Read More »

وہ دیکھو اٹھی کالی کالی گھٹا

وہ دیکھو اٹھی کالی کالی گھٹاہے چاروں طرف چھانے والی گھٹاگھٹا کے جو آنے کی آہٹ ہوئیہوا میں بھی اک سنسناہٹ ہوئیگھٹا آن کر مینہ جو برسا گئیتو بے جان مٹی میں جان آ گئیزمیں سبزے سے لہلہانے لگیکسانوں کی محنت ٹھکانے لگیجڑی بوٹیاں پیڑ آئے نکلعجب بیل پتے عجب پھول پھلہر اک پیڑ کا

وہ دیکھو اٹھی کالی کالی گھٹا Read More »