اب بھی دیئے میں جان بہت ہے
تیز ہوا حیران بہت ہے
چلنا بھی ہے تنہا مجھ کو
رستہ بھی سُنسان بہت ہے
لوگو اپنے خواب نہ بیچو
اس میں تو نقصان بہت ہے
ہونٹ اگرچہ سی رکھے ہیں
سینے میں طوفان بہت ہے
اُس کی یادیں ، اُس کی خوشبو
زیست کو یہ سامان بہت ہے
حقداروں کو حق مل جائے
پھر جینا آسان بہت ہے
بڑھ کر میں تلوار اُٹھا لوں
اس کا بھی امکان بہت ہے
شاہدہ عروج خان