MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

لکڑی کی کاٹھی کاٹھی پہ گھوڑا

لکڑی کی کاٹھی کاٹھی پہ گھوڑاگھوڑے کی دم پہ جو مارا ہتھوڑادوڑا دوڑا دوڑا گھوڑا دم اٹھا کے دوڑا گھوڑا پہنچا چوک میں چوک میں تھا نائیگھوڑے جی کی نائی نے حجامت جو بنائیدوڑا دوڑا دوڑا گھوڑا دم اٹھا کے دوڑا گھوڑا تھا گھمنڈی پہنچا سبزی منڈیسبزی منڈی برف پڑی تھی برف میں لگ گئی

لکڑی کی کاٹھی کاٹھی پہ گھوڑا Read More »

نہ جانے کیسے مٹے گی یہ آپسی رنجش

نہ جانے کیسے مٹے گی یہ آپسی رنجش ہمارے گھر جو چلی آئی باہری رنجش ہزاروں سائے تو اک پیڑ کے نہیں ہوتے مری تو فہم سے باہر ہے مسلکی رنجش سبھی کی ایک ہی منزل ہے آؤ ملکے چلیں فنا نصیبو ! کہاں تک یہ باہمی رنجش! نہیں ہے بندہ و معبود میں کوئی

نہ جانے کیسے مٹے گی یہ آپسی رنجش Read More »

بعد از نوائے تخلیہ تھوڑی سی روشنی رہے

بعد از نوائے تخلیہ تھوڑی سی روشنی رہے جذبوں کی ٹوٹی میز پر شمعِ غزل دھری رہے پیتا ہے کون شوق میں،اے زیست میری بات سن عشقِ بتاں کی آگ سے میری چلم بھری رہے لوٹیں گے آج قافلے اس کی سنہری یادوں کے آنکھوں کے در پہ نیند سے اتنا کہو! کھڑی رہے اک

بعد از نوائے تخلیہ تھوڑی سی روشنی رہے Read More »

منزلیں دور ہیں اور آبلہ پائی اپنی

منزلیں دور ہیں اور آبلہ پائی اپنی کیسے ممکن ہو ترے شہر رسائی اپنی میں ترا نام قبیلے میں جو لیتا ہوں کبھی ہر کوئی جھاڑنے لگتا ہے خدائی اپنی ایک وہ تھا کہ وہ جرگے میں بھی خاموش نہ تھا ایک ہم تھے کہ نہ دے پائے صفائی اپنی اب تو یہ حق بھی

منزلیں دور ہیں اور آبلہ پائی اپنی Read More »

زیست کی شام تلک تیری طلب

زیست کی شام تلک تیری طلب صبحِ ہنگام تلک تیری طلب شام سے صبح تلک تیرا خیال صبح سے شام تلک تیری طلب گاؤں سے شہر تلک خط کا سفر تیرے ہمنام تلک تیری طلب مصر سے شام تلک پابہ رکاب شہرِ اصنام تلک تیری طلب عشق کی آخری معراج ہے تو اپنے انجام تلک

زیست کی شام تلک تیری طلب Read More »

فلک سے رابطہ ٹوٹا زمیں پہ آن پڑے

فلک سے رابطہ ٹوٹا زمیں پہ آن پڑے جہاں سے اڑ کے چلے تھے وہیں پہ آن پڑے حضورِ عشق ہماری خرد کے مفروضے جو "ھو” کا راز کھلا تو ہمیں پہ آن پڑے یہ جب سے ہم پہ ہماری ہی خاک کھلنے لگی یہ خواہشات کے پربت زمیں پہ آن پڑے وہ جن کے

فلک سے رابطہ ٹوٹا زمیں پہ آن پڑے Read More »

خرد سے گر نہیں بنتی جنوں کے پاس گزار

خرد سے گر نہیں بنتی جنوں کے پاس گزار حیات ایسے نہ اے دوست محوِ یاس گزار ترے لبوں کی ہنسی سے ہرے بھرے ہیں سبھی یہ تیرے چاہنے والے ترے سپاس گزار وفا سرشت ہیں تھوڑا بھرم ہمارا بھی! ہیں دست بستہ ستادہ ہم التماس گزار مرے نصیب میں گر ہے یہ لذتِ گریہ

خرد سے گر نہیں بنتی جنوں کے پاس گزار Read More »

اندر جالی ” منتر پھونکا عقل کے ظلمت خانوں پر

اندر جالی ” منتر پھونکا عقل کے ظلمت خانوں پر اور”صوامت "گھول کے مارے دل کے روشن دانوں پر "بھوج پتر” کی چاروں دشائیں ہردیے کے وپریت ملیں "گنگاجل” بھی فیل ہوا ہے "کانا "کی سنتانوں پر عشق کے ہم آسیب زدہ ہیں اور ایسے آسیب زدہ عامل،بابا، چھوڑ سکے نہ کوئی اثر دیوانوں پر

اندر جالی ” منتر پھونکا عقل کے ظلمت خانوں پر Read More »

شور پُرسش کا تھا اب کے نہ پزیراٸی کا تھا

شور پُرسش کا تھا اب کے نہ پزیراٸی کا تھاشہرِ یاراں میں عجب قحط سا گویاٸی کا تھا واعظ و رند نہ اغیار نہ دلبر نہ رقیبایک وحشت کا سماں کوچہءِ ہرجاٸی کا تھا ذہن بیمار تھکی کرب سے ذخمی روحیںجیسے اس شہر میں فقدان مسیحاٸی کا تھا حادثہ قتل ہوس سازش و دہشت گردینام

شور پُرسش کا تھا اب کے نہ پزیراٸی کا تھا Read More »

کسی پتھر سے ٹکرانا پڑے گا

کسی پتھر سے ٹکرانا پڑے گابُتِ کافر کے گھر جانا پڑے گا پہت مرمر کے ہم جیتے رہے ہیںتو اب جی جی کے مر جانا پڑے گا مچل کر رہ گیا ہے دل کسی پراب اِس بچے کد بہلانا پڑے گا گلی اُس کی ہے One way سوچ لینااگر پلٹے تو جرمانہ پڑے گا بہت

کسی پتھر سے ٹکرانا پڑے گا Read More »