MOJ E SUKHAN

زندگی خواب کا منظر نہیں ہونے پائی

زندگی خواب کا منظر نہیں ہونے پائی
آرزو کوئی مقدر نہیں ہونے پائی

درمیاں کوئی نہ تھا پھر بھی مقابل اُس کے
ایک دیوار سی تھی در نہیں ہونے پائی

اِس میں پھر اور سمایا نہ کوئی تیرے سوا
دل کی دریا بھی سمندر نہیں ہونے پائی

اُس نے جب پھیر لیں مخمور نگاہیں ہم سے
محفلِ بادہ و ساغر نہیں ہونے پائی

دل میں جو ٹھان کے نکلے تھے کہ کہہ گُزریں گے
بات اُس سے وہی اکثر نہیں ہونے پائی

فاختہ جِس سے شکاری نے گِرائی نے تھی کبھی
شاخ پِھر سے وہ ثمر ور نہیں ہونے پائی

ایک تبدیلی جو دنیا سے طلب کرتا رہا
آج تک خود مِرے اندر نہیں ہونے پائی

رفعت اسلام صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم