ظرف آزمانے شاہ کا جائینگے ایک دن
زنجیرِ عدل ہم بھی ہلائیں گے ایک دن
لوگو فضائے چرخِ ادب سے یہ رفتگاں
لوحِ تخیّلات پہ ، آئیں گے ایک دن
خود کو چھپائے گا وہ نگاہوں سے تا بہ کے
اُس کے خیال و خواب پہ چھائیں گے ایک دن
خاموش ہیں تو یہ نہ سمجھنا ، نہیں رہے
ہم آسمان سر پہ اُٹھائیں گے ایک دن
ہنستے ہیں وہ بہت مِری بیچارگی پہ آج
میری طرح وہ اشک بہائیں گے ایک دن
وہ جو ہر ایک بات کو سمجھے ہیں کم سِنی
ہم بھی ضرور ان کوستائیں گے ایک دن
“شہناز رضوی” صبر سے بس کام لیجئے
لوگ اپنا آپ خود ہی دِکھائیں گے ایک دن
شہناز رضوی