MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

کسان لوگ ہیں چھپر مچان والے ہیں

کسان لوگ ہیں چھپر مچان والے ہیںہم اپنے آپ میں خود اک جہان والے ہیں ہمارے دم سے ہی چلتا ہے کار و بار جہاںہمارے دم سے ہی اونچے مکان والے ہیں ہمارے دم سے ہیں روشن جہان کے چولھےہمارے دم سے ہی سب آن بان والے ہیں ہمارے دم سے ہے رونق بشر کے

کسان لوگ ہیں چھپر مچان والے ہیں Read More »

تلاش

چمن میں اسکے ہی انفاس کی حرارت سےگلوں میں رنگ ہے کلیوں میں تازگی ہے مداموہ بادلوں کا نگر ہے جہاں وہ رہتی ہےہوائیں اس سے ہی لیتی ہیں آکے اذنِ خرامردائے سبزہ پہ شبنم کے نقرئی موتیوہ آکے چاندنی شب میں انڈیل جاتی ہےاسی کے گالوں کی لالی بشکلِ رنگِ شفقافق پہ شام کی

تلاش Read More »

____خبر لو ہمار _____ از "”زنداں کی راتیں "”َ

تمہی وجہِ تخلیق ِ کون و مکاںتمہی سے ہیں روشن زمین وزماںتصور میں روضے پہ ہم آ گئےدرود و سلام اے شہِ دو جہاںتمہی قلبِ مضطر کا ہو بس قرارمدینے کے سائیں خبر لو ہمارہیں آشفتہ سر جلد ادھڑے ہوئےترے قافلے سے ہیں بچھڑے ہوئےپناہوں میں لیجو کہ ہم بد نصیبہیں اپنوں کے ہاتھوں بھی

____خبر لو ہمار _____ از "”زنداں کی راتیں "”َ Read More »

خزاں کی رت ہے، کھلا ہے، گلاب سمجھا کر

خزاں کی رت ہے، کھلا ہے، گلاب سمجھا کریونہی نہیں ہے ترا انتخاب سمجھا کر کلی سے غنچوں سے تجھکو میں کیسے دوں تشبیہ!کہ تیرا کوئی نہیں ہے جواب سمجھاکر تو اپنی ذات پہ مرضی سے خرچ کر مجھکوکہ تجھ پہ کوئی نہیں ہے حساب سمجھاکر جدھر بھی جاتا ہے سایہ فگن ہی رہتے ہیںیہ

خزاں کی رت ہے، کھلا ہے، گلاب سمجھا کر Read More »

نہ جانے کیسے مٹے گی یہ آپسی رنجش

نہ جانے کیسے مٹے گی یہ آپسی رنجشہمارے گھر جو چلی آئی باہری رنجش ہزاروں سائے تو اک پیڑ کے نہیں ہوتےمری تو فہم سے باہر ہے مسلکی رنجش سبھی کی ایک ہی منزل ہے آؤ ملکے چلیںفنا نصیبو ! کہاں تک یہ باہمی رنجش! نہیں ہے بندہ و معبود میں کوئی دوریاگر نہ بیچ

نہ جانے کیسے مٹے گی یہ آپسی رنجش Read More »

خرد سے گر نہیں بنتی جنوں کے پاس گزار

خرد سے گر نہیں بنتی جنوں کے پاس گزارحیات ایسے نہ اے دوست محوِ یاس گزار ترے لبوں کی ہنسی سے ہرے بھرے ہیں سبھییہ تیرے چاہنے والے ترے سپاس گزار وفا سرشت ہیں تھوڑا بھرم ہمارا بھی!ہیں دست بستہ ستادہ ہم التماس گزار مرے نصیب میں گر ہے یہ لذتِ گریہمقامِ صبر سے میری

خرد سے گر نہیں بنتی جنوں کے پاس گزار Read More »

__ تہ بہ تہ آلودگی _____افسانہ

ثمر خانہ بدوش سہارنپور ہندوستان بازار ٹھنڈا پڑا تھا— بازار ٹھنڈا کیوں نہ پڑتا! جب پورا دیس ہی مندی کی مار جھیل رہا ہے_gdp آنکڑوں میں پانچ لیکن حقیقت میں تین ہی فیصد بچی ہے_ آئے دن آٹو سیکٹر گھاٹے کی طرف تیز رفتاری سے بڑھ ہے ہیں.کئی ہزار کرمچاری کمپنیوں سے نکالے جاچکے ہیں،

__ تہ بہ تہ آلودگی _____افسانہ Read More »

یہ لوگ پھول نہیں رکھتے اب کتابوں میں

یہ لوگ پھول نہیں رکھتے اب کتابوں میںمحبتوں کا سبق ہی نہیں نصابوں میں گئے تھے صحرا کو دیوانگی کا موسم تھاسنا ہے اب بھی بھٹکتے ہیں وہ سرابوں میں شباب سارا جو ڈوبے رہے ہیں مستی میںبڑھاپا دیکھا تو اب جھانکتے ثوابوں میں ہر ایک شخص ہے یا شیخ اپنی دیکھ میں گمیہ لوگ

یہ لوگ پھول نہیں رکھتے اب کتابوں میں Read More »

اس کے بن یوں ہوا ہے حال اپنا

اس کے بن یوں ہوا ہے حال اپنا ہوگیا جیسے انتقال اپنا عشق کا وہ عجب تھا سوداگر لے کے دل ، دے گیا رومال اپنا شدتِ غم سے کھل سکی نہ زباں نہ بتا پائے اس کو حال اپنا یوں سبک دوش مجھ سے ہوکے گیا کہہ گیا رکھنا تم خیال اپنا ایک لمحہ

اس کے بن یوں ہوا ہے حال اپنا Read More »

کہاں تلک وہ بھلا ہم کو آزمائیں گے

کہاں تلک وہ بھلا ہم کو آزمائیں گے ہمارے صبر سے آخر وہ ٹوٹ جائیں گے ہمارے دل کی حکایت وہ جان لیں گے ضرور ہم ان کو خط نہ لکھیں گےغزل سنائیں گے حصارِ کرب ہمارا بھی ٹوٹ جائے گا ہمیں یقین ہے ہم لوگ مسکرائیں گے تمہاری باتیں کریں گے ہم اپنی غزلوں

کہاں تلک وہ بھلا ہم کو آزمائیں گے Read More »