MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

میں دل تجھ کو خود سے جدا کر رہی ہوں

Main dil tujh ko khud say juda kar rahi hoon غزل میں دل تجھ کو خود سے جدا کر رہی ہوںمیں رنج و الم سے نبھا کر رہی ہوں ترے دل کی آواز میں بھی سنوں کچھمیں سجدوں میں رو کر دعا کر رہی ہوں یہ کہتی ہے اشکوں کی برسات مجھ سےمیں اس بار

میں دل تجھ کو خود سے جدا کر رہی ہوں Read More »

بھرے جہاں میں بھلا کون اب ہمارا ہے

Bharay jahan main Bhala kon ab hamara hay غزل بھرے جہاں میں بھلا کون اب ہمارا ہےہمارا سایا ہمارا تبھی سہارا ہے تمام رات اسی سوچ میں کٹی اپنیہمارے نام کا انمول یہ ستارہ ہے تمام راستے جگنو جو بن کے ساتھ رہاپتہ چلا کہ وہی تو مرا خسارا ہے گلاب لے کہ چلی ہوں

بھرے جہاں میں بھلا کون اب ہمارا ہے Read More »

عشق کی ابتدا سے ڈرتے ہیں

عشق کی ابتدا سے ڈرتے ہیںجیسے مجرم سزا سے ڈرتے ہیں زندگی موت جب مقرر ہےلوگ پھر کیوں وبا سے ٖڈرتے ہیں کام جن کا ہے روشنی کرناکب وہ دیپک ہوا سے ڈرتے ہیں دل کو سچ ہے یہ توڑنے والےکب خدا کی سزا سے ڈرتے ہیں بھول پھر سے نہ کوئی ہو جائےان کی

عشق کی ابتدا سے ڈرتے ہیں Read More »

جہاں بھی جس سے ملی میں کٹا پھٹا نکلا

Jahan bhi jis say mili main kata phata Nikla غزل جہاں بھی جس سے ملی میں کٹا پھٹا نکلاعذابِ جاں تو نہیں ہاں عذاب سا نکلا جو ہنس رہا تھا سرِ بزم اک روانی سےقریب اسکے گئی وہ بھی دل جلا نکلا جسے میں صرف سمجھتی رہی یہاں جگنواسی کے جلنے سے منزل کا راستہ

جہاں بھی جس سے ملی میں کٹا پھٹا نکلا Read More »

عشق اک انقلاب پیہم ہے

Ishq Ik inqilab e peeham Hay غزل عشق اک انقلاب پیہم ہےہاں مگر مجھ میں لو ذرا کم ہے چھو رہا ہے فلک کے دامن کواس تخیل میں کتنا دم خم ہے مٹ گئے رنج و غم مرے تب سےجب سے برسی کرم کی شبنم ہے سجدہ کرتے ج بیں نہیں تھکتیسر خرو خواہشوں کا

عشق اک انقلاب پیہم ہے Read More »

عشق میں جو فنا نہیں ہوتا

Ishq Main jo Fana Nahi Hota غزل عشق میں جو فنا نہیں ہوتااسکو کچھ بھی عطا نہیں ہوتا ذات باری بڑی مقدم ہےکون اس پر فدا نہیں ہوتا دن کی مصروفیت یہ کہتی ہےفرض باری ادا نہیں ہوتا کس کو دکھ درد میں سناتی اگرساتھ تیرا خدا نہیں ہوتا قرب مل جائے اسکی ہستی کاورنہ

عشق میں جو فنا نہیں ہوتا Read More »

دنیا تری روانی میں انسان بہہ گیا

Dunya Tri rawani Main Insan Beh Gaya غزل دنیا تری روانی میں انسان بہہ گیایعنی کہ گھونٹ پانی میں نادان بہہ گیا اسکی رفاقتوں کی ضرورت مجھے بھی تھیدلبر جو رکھ رکھاؤ میں سامان بہہ گیا جو بچہ گم شدہ تھا لگا ماں کے جب گلےجذبات تیرے رنگوں کا طوفان بہہ گیا جو دے رہا

دنیا تری روانی میں انسان بہہ گیا Read More »

میں تیرے واسطے تازہ گلاب ہو جاؤں

Main Teray wastay Taza Gulab Ho jaoon غزل میں تیرے واسطے تازہ گلاب ہو جاؤںتری کہانی کا میں انتساب ہو جاؤں ہو اختیار میں میرے اگر خدا کی قسمبکھر کے روشنی میں بے حساب ہو جاؤں ہر ایک شخص کے زخموں پہ رکھ دے جو مرہممیں کاش ایسی کوئی اک کتاب ہو جاؤں رکھے جو

میں تیرے واسطے تازہ گلاب ہو جاؤں Read More »

بہنے لگی ہے گنگا مرے گھر قریب سے

behnay Lagi Hay Ganga mry ghar kay Qareeb say غزل بہنے لگی ہے گنگا مرے گھر قریب سےبجھنے لگی ہے پیاس مری اب نصیب سے من خوش اسی ہی بات کو ہے سوچ سوچ کےپوچھا کریں گے حال تو اکثر حبیب سے بوندیں ٹپک رہی ہیں باتوں سے شہد کیملنے لگی ہوں میں یہاں اک

بہنے لگی ہے گنگا مرے گھر قریب سے Read More »

عشق کا دعویٰ غلط ہے بات ہے بے کار کی

عشق کا دعویٰ غلط ہے بات ہے بے کار کیبات مانی ہے کبھی کیا قافلہ سالار کی جب کہا تھا قافلہ سالار نے مل کر چلوکیسے جرات ہو گئی پھر آپ کو انکار کی بن رہے ہیں بے ہنر بھی صاحبِ علم و ہنرکوئی عزت ہی نہیں ہے جبہ و دستار کی چھا گیا ہے

عشق کا دعویٰ غلط ہے بات ہے بے کار کی Read More »