وہم ہے یہ آپ کا اس کے سوا کچھ بھی نہیں
وہم ہے یہ آپ کا اس کے سوا کچھ بھی نہیںجھوٹ کے اس عہد میں عہدِ وفا کچھ بھی نہیں اپنے جب اعمال کو دیکھا تو مجھ کو یوں لگاہم کو جتنی مل رہی ہے وہ سزا کچھ بھی نہیں عمر بھر رونے سے جتنی سرخ ہیں آنکھیں مریآپ کے ہاتھوں کا یہ رنگِ حنا
وہم ہے یہ آپ کا اس کے سوا کچھ بھی نہیں Read More »