MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

وہم ہے یہ آپ کا اس کے سوا کچھ بھی نہیں

وہم ہے یہ آپ کا اس کے سوا کچھ بھی نہیںجھوٹ کے اس عہد میں عہدِ وفا کچھ بھی نہیں اپنے جب اعمال کو دیکھا تو مجھ کو یوں لگاہم کو جتنی مل رہی ہے وہ سزا کچھ بھی نہیں عمر بھر رونے سے جتنی سرخ ہیں آنکھیں مریآپ کے ہاتھوں کا یہ رنگِ حنا

وہم ہے یہ آپ کا اس کے سوا کچھ بھی نہیں Read More »

خوش گمانی کیسے کرلیں ہم یقیں

خوش گمانی کیسے کرلیں ہم یقیںمشکلیں بھی ختم ہوتی ہیں کہیں جب بھی ٹوٹا گفتگو کا سلسلہذہن و دل میں نفرتیں پلنے لگیں میں وہاں سے اور آگے چل پڑاختم ہوتی ہے جہاں حدِ یقیں ہے سراسر عقل و دانش کا قصورجہل کیسے ہو گیا مسند نشیں جس جگہ بکھری ہوئی ہیں کرچیاںجانے کیوں میں

خوش گمانی کیسے کرلیں ہم یقیں Read More »

ہمیں تو بس اتنی ہی خبر ہے

ہمیں تو بس اتنی ہی خبر ہےہمارا سر ہے تمہارا در ہے اے فتنہ گر کیا تجھے خبر ہےجو جل رہا ہے وہ تیرا گھر ہے یہ میرے رب کا کرم ہے مجھ پرخود اپنے اوپر مری نظر ہے میں کچھ نہیں ہوں یہ سچ ہے لیکنمری وفا تو عظیم تر ہے مجھے محبت ہی

ہمیں تو بس اتنی ہی خبر ہے Read More »

احباب سے بس مجھ کو محبت کی طلب ہے

احباب سے بس مجھ کو محبت کی طلب ہےلیکن یہ طلب بھی تو قیامت کی طلب ہے اے شوقِ نظارہ مجھے صحراؤں میں لے چلاب عقلِ پریشاں کو بھی وحشت کی طلب ہے کلیوں کے چٹکنے کی جو آواز بھی سن لےاحساس کو اس حسنِ سماعت کی طلب ہے ہر شخص کوہے تنگی ء داماں

احباب سے بس مجھ کو محبت کی طلب ہے Read More »

طے ہو گیا ہے مسئلہ جب انتساب کا

طے ہو گیا ہے مسئلہ جب انتساب کااب یہ بھی کوئی کام ہے لکھنا کتاب کا کھایا ہے سیر ہو کے خیالی پلاؤ آجپانی پھر اس کے بعد پیا ہے سراب کا دیکھی ہے ایک فلم پرانی تو یوں لگاجیسے کہ کوئی کام کیا ہے ثواب کا شوگر نہ ہو کسی بھی مسلماں کو اے

طے ہو گیا ہے مسئلہ جب انتساب کا Read More »