MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

نشے میں جھومتا گاتا ہوں ٹوٹ جاتا ہوں

نشے میں جھومتا گاتا ہوں ٹوٹ جاتا ہوں تمہارا ہجر مناتا ہوں ٹوٹ جاتا ہوں یہ کیسی مٹی سے آخر مجھے بنایا گیا کسی سے ہاتھ ملاتا ہوں ٹوٹ جاتا ہوں کبھی تو لگتا ہے جیسے میں ایک پتھر ہوں پھر اتنا شور مچاتا ہوں ٹوٹ جاتا ہوں انا پرست ہوں اتنا کہ اپنے ہاتھ

نشے میں جھومتا گاتا ہوں ٹوٹ جاتا ہوں Read More »

ہاتھ میں جام ہے دل کو آرام ہے

.ہاتھ میں جام ہے دل کو آرام ہے اب ہمیں عشق سے کوئی کیا کام ہے جس نے لوٹا ہمیں پارسا تھی بہت یہ طوائف تو بس یونہی بدنام ہے جائیے شیخ جی ہم سے ملیے نہیں ہم پہ پینے پلانے کا الزام ہے خالی بوتل ہیں ہم وہ بھی ٹوٹی ہوئی ہم سمجھتے ہیں

ہاتھ میں جام ہے دل کو آرام ہے Read More »

نہیں جو چیز جہاں میں اسے پکارے گئے

نہیں جو چیز جہاں میں اسے پکارے گئے عجیب ذہنی اذیت میں دن گزارے گے ہماری نیند۔ سپردِ خیالِ یار ہوئی ہمارے خواب رقیبوں کے سر سے وارے گئے غموں کے گہرے سمندر سے ہم نکل ائے کسی نے ہم کو ڈبویا تھا جب کنارے گئے بساطِ عشق کے پہلو سے ہم اٹھے ہی نہیں

نہیں جو چیز جہاں میں اسے پکارے گئے Read More »

عجیب رنگوں کے نقشے یہ کیا بنا دیے ہیں

عجیب رنگوں کے نقشے یہ کیا بنا دیے ہیں خمیر ایک تھا چہرے جدا بنا دیے ہیں یہ بھوکے پیاس کے مارے یہ بے لباس بدن نصیب لوگوں کے عجلت میں کیا بنا دیے ہیں زمیں پہ اپنا خلیفہ بنا کے بھیجا ہمیںہمی سے کیوں بھلا خواجہ سرا بنا دیے ہیں جبیں کہاں پہ دھریں

عجیب رنگوں کے نقشے یہ کیا بنا دیے ہیں Read More »

غم پرستی اُداس لوگوں کی

غم پرستی اُداس لوگوں کی موج مستی اُداس لوگوں کی آپ اپنا ہی خون پیتے ہیں دیکھیں پستی اُداس لوگوں کی یہاں خوشیاں کسی کو راس نہیں یہ ہے بستی اُداس لوگوں کی خواب مہنگے حضور ہیں لیکن جان سستی اُداس لوگوں کی لبِ دریا یہ ریت کے ٹیلے کیا ہے ہستی اُداس لوگوں کی

غم پرستی اُداس لوگوں کی Read More »

میں صدا ! فقیری ہوں مجھ میں ہو زیادہ ہے

میں صدا ! فقیری ہوں مجھ میں ہو زیادہ ہے مجھ میں یار میں کم ہوں اور تو زیادہ ہے وقت کے خداؤں سے روز جو الجھتا ہوں شاید ان رگوں میں بھی کچھ لہو زیادہ ہے کچھ تو بولیے صاحب شور کا فسوں ٹوٹے آپ کی خموشی میں گفتگو زیادہ ہے تھر تھراتے ہونٹوں

میں صدا ! فقیری ہوں مجھ میں ہو زیادہ ہے Read More »

جنون و عشق کے رستے بحال کرتی ہے

جنون و عشق کے رستے بحال کرتی ہے کبھی کبھی تو محبت کمال کرتی ہے اب اور بوجھ اٹھانے کا حوصلہ تو نہیں تھکے بدن میں ضرورت دھمال کرتی ہے ذرا قریب سے دیکھو تو رو پڑو گے تم جو مفلسی یہاں لوگوں کا حال کرتی ہے عدو سے مانگتا کیوں ہے تو پیٹ کا

جنون و عشق کے رستے بحال کرتی ہے Read More »

فرسودہ دلیلوں نے مجھے بانٹ لیا ہے

فرسودہ دلیلوں نے مجھے بانٹ لیا ہے چالاک وکیلوں نے مجھے بانٹ لیا میں جیسے ہی دنیائے فسادات میں اترا بے رحم قبیلوں نے مجھے بانٹ لیا ہے شہ رگ سے خدا تک کا سفر ماپنے نکلا ہر سانس پہ میلوں نے مجھے بانٹ لیا ہے میں بھوک کے قدموں میں ابھی جان بہ لب

فرسودہ دلیلوں نے مجھے بانٹ لیا ہے Read More »

سینے میں کوئی آگ کا گولہ ہے کہ دل ہے

سینے میں کوئی آگ کا گولہ ہے کہ دل ہےجوالہ ہے شعلہ ہے شرارہ ہے کہ دل ہے یادوں کا لگا میلہ جھمیلہ ہے کہ دل ہےغوغا ہے کہ بلوہ ہے تماشہ ہے کہ دل ہے بے گور کفن لاشوں کی تصویریں سجی ہیںزندان ہے مقتل ہے کمیلا ہے کہ دل ہے بے سمت جو

سینے میں کوئی آگ کا گولہ ہے کہ دل ہے Read More »

جو اپنی ریا کاری پہ اترائے ہوئے ہیں

Jo Apni Riyakaari pa Itrayyee Hoyee Hain غزل جو اپنی ریا کاری پہ اترائے ہوئے ہیںدر اصل یہی دنیا کے ٹھکرائے ہوئے ہیں دل کرتا ہے ہم ان کو گلے اپنے لگالیںممتا کے لیے ہاتھ جو پھیلائے ہوئے ہیں یہ کس نے شرر پھونکا ہے اوطاقِ وفا میںکھلتے ہوئے یہ چہرے جو کملائے ہوئے ہیں

جو اپنی ریا کاری پہ اترائے ہوئے ہیں Read More »