نشے میں جھومتا گاتا ہوں ٹوٹ جاتا ہوں
نشے میں جھومتا گاتا ہوں ٹوٹ جاتا ہوں تمہارا ہجر مناتا ہوں ٹوٹ جاتا ہوں یہ کیسی مٹی سے آخر مجھے بنایا گیا کسی سے ہاتھ ملاتا ہوں ٹوٹ جاتا ہوں کبھی تو لگتا ہے جیسے میں ایک پتھر ہوں پھر اتنا شور مچاتا ہوں ٹوٹ جاتا ہوں انا پرست ہوں اتنا کہ اپنے ہاتھ
نشے میں جھومتا گاتا ہوں ٹوٹ جاتا ہوں Read More »