MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

عشق کی ابتدا سے ڈرتے ہیں

عشق کی ابتدا سے ڈرتے ہیں
جیسے مجرم سزا سے ڈرتے ہیں

زندگی موت جب مقرر ہے
لوگ پھر کیوں وبا سے ٖڈرتے ہیں

کام جن کا ہے روشنی کرنا
کب وہ دیپک ہوا سے ڈرتے ہیں

دل کو سچ ہے یہ توڑنے والے
کب خدا کی سزا سے ڈرتے ہیں

بھول پھر سے نہ کوئی ہو جائے
ان کی بہکی ادا سے ڈرتے ہیں

دشمنوں کی ریا کا خوف نہیں
دوستوں کی جفا سے ڈرتے ہیں

جتنے ظالم ہیں وہ بھی اندر سے
سچ ہے حرف۔ دعا سے ڈرتے ہیں

وصل کی آرزو لیے انجم
ہم دوانے خطا سے ڈرتے ہیں

شہناز انجم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم