عشق کی ابتدا سے ڈرتے ہیں
جیسے مجرم سزا سے ڈرتے ہیں
زندگی موت جب مقرر ہے
لوگ پھر کیوں وبا سے ٖڈرتے ہیں
کام جن کا ہے روشنی کرنا
کب وہ دیپک ہوا سے ڈرتے ہیں
دل کو سچ ہے یہ توڑنے والے
کب خدا کی سزا سے ڈرتے ہیں
بھول پھر سے نہ کوئی ہو جائے
ان کی بہکی ادا سے ڈرتے ہیں
دشمنوں کی ریا کا خوف نہیں
دوستوں کی جفا سے ڈرتے ہیں
جتنے ظالم ہیں وہ بھی اندر سے
سچ ہے حرف۔ دعا سے ڈرتے ہیں
وصل کی آرزو لیے انجم
ہم دوانے خطا سے ڈرتے ہیں
شہناز انجم