MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

سر درد میں گولی یہ بڑی زود اثر ہے

سر درد میں گولی یہ بڑی زود اثر ہےپر تھوڑا سا نقصان بھی ہو سکتا ہے اس سے ہو سکتی ہے پیدا کوئی تبخیر کی صورتدل تنگ و پریشان بھی ہو سکتا ہے اس سے ہو سکتی ہے کچھ ثقل سماعت کی شکایتبیکار کوئی کان بھی ہو سکتا ہے اس سے ممکن ہے خرابی کوئی

سر درد میں گولی یہ بڑی زود اثر ہے Read More »

تجھے مجھ سے مجھ کو تجھ سے جو بہت ہی پیار ہوتا

تجھے مجھ سے مجھ کو تجھ سے جو بہت ہی پیار ہوتانہ تجھے قرار ہوتا نہ مجھے قرار ہوتا ترا ہر مرض الجھتا مری جان ناتواں سےجو تجھے زکام ہوتا تو مجھے بخار ہوتا جو میں تجھ کو یاد کرتا تجھے چھینکنا بھی پڑتامرے ساتھ بھی یقیناً یہی بار بار ہوتا کسی چوک میں لگاتے

تجھے مجھ سے مجھ کو تجھ سے جو بہت ہی پیار ہوتا Read More »

تم بھول گئے شاید

وہ جو دودھ شہد کی کھیر تھیوہ جو نرم مثل حریر تھی وہ جو آملے کا اچار تھاتمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو جو ہرن کے سیخ کباب تھےوہ جواب اپنا جواب تھے وہ جو کوئٹہ کا انار تھاوہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہووہ جو

تم بھول گئے شاید Read More »

ہے آپ کے ہونٹوں پہ جو مسکان وغیرہ

ہے آپ کے ہونٹوں پہ جو مسکان وغیرہ قربان گئے اس پہ دل و جان وغیرہ بلی تو یوں ہی مفت میں بدنام ہوئی ہے تھیلے میں تو کچھ اور تھا سامان وغیرہ بے حرص و غرض قرض ادا کیجیے اپنا جس طرح پولس کرتی ہے چالان وغیرہ اب ہوش نہیں کوئی کہ بادام کہاں

ہے آپ کے ہونٹوں پہ جو مسکان وغیرہ Read More »

مرد ہونی چاہیے خاتون ہونا چاہیے

مرد ہونی چاہیے خاتون ہونا چاہیے اب گرامر کا یہی قانون ہونا چاہیے رات کو بچے پڑھائی کی اذیت سے بچے ان کو ٹی وی کا بہت ممنون ہونا چاہیے دوستو انگلش ضروری ہے ہمارے واسطے فیل ہونے کو بھی اک مضمون ہونا چاہیے نرسری کا داخلہ بھی سرسری مت جانئے آپ کے بچے کو

مرد ہونی چاہیے خاتون ہونا چاہیے Read More »

کتنے نشتر لگائے گی دنیا

کتنے نشتر لگائے گی دنیاایک دن ہار جائے گی دنیا خود کو پتھر بنا چکی ہوں میںمجھ سا بےحس نہ پائے گی دنیا درد کا گیت ہوں میں وہ جس کوعمر بھر گنگنائے گی دنیا زخم بھی دے گی اور مرہم بھیاپنے ہاتھوں لگائے گی دنیا کیا کسی سے ملوں محبت سےپھر فسانے بنائے گی

کتنے نشتر لگائے گی دنیا Read More »

عمر بھر ہم نے نبھائی دوستوں سے دوستی

عمر بھر ہم نے نبھائی دوستوں سے دوستیاب یہ جانا کہ عبث ہی زندگی بیکار کی کیا گلہ غیروں سے جب اس نے پرایا کردیااب ضرورت ہی نہیں باقی کسی تکرار کی زندگی بھر اس نے رکھا میری چاہت کا بھرمآ ج پر نیلام لوگوں میں سر۔ بازار کی خود لگاتا ہے وو نشتر اور

عمر بھر ہم نے نبھائی دوستوں سے دوستی Read More »

گو زمانے کو دکھایا بھی نہیں جاسکتا

گو زمانے کو دکھایا بھی نہیں جاسکتاپیار ہے پیار چھپایا بھی نہیں جاسکتا دل کو تکلیف بہت دیتا ہے لیکن پھر بھیزخم سینے پہ سجایا بھی نہیں جاسکتا کرلیا ترک ۔ تعلق گو زمانے کے لیےہاں! مگر اس کو بھلایا بھی نہیں جاسکتا جسم کے گھاؤ تو دکھتے ہیں سبھی کو لیکنروح کا زخم دکھایا

گو زمانے کو دکھایا بھی نہیں جاسکتا Read More »

میرے ہونٹوں پہ مہر چپ کی لگادی جائے

میرے ہونٹوں پہ مہر چپ کی لگادی جائےمجھ کو حق گوئی کی ایسی نہ سزا دی جائے روشنی کم ہی سہی ،گھور اندھیرے سے مگرکیا یہ بہتر نہیں اک شمع جلادی جائے کرکے مسمار غریبوں کے جھونپڑے جو بنیںایسے محلات کو تو آ گ لگادی جائے ڈس رہے ہیں کیوں محبت کو ناگ نفرت کےایسے

میرے ہونٹوں پہ مہر چپ کی لگادی جائے Read More »