MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

درد مٹتا ہے کہاں ، زخم تو بھر جاتا ہے

درد مٹتا ہے کہاں ، زخم تو بھر جاتا ہےآ دمی جیتے جی، بن موت ہی مرجاتا ہے بات کڑوی بھی سہی جاتی ہے لیکن لہجہایسا خنجر ہے جو سینے میں اتر جاتا ہے غم کے گہرے ہو ں جو سائے تو پلٹنا بہترشام ہوجائے تو ہر آ دمی گھر جاتا ہے شوق سے ملیے

درد مٹتا ہے کہاں ، زخم تو بھر جاتا ہے Read More »

وقت نے اعتبار توڑ دیا

وقت نے اعتبار توڑ دیاتھا ترا انتظار ، چھوڑدیا اپنی بے نام آ رزوؤ ں کاخود ہی ہم نے گلا مروڑدیا ہم نے سمجھا تھا ہمسفر جس کواس نے رستے پہ لا کے چھوڑ دیا جو تھے کہنے کو خون کے رشتےہے انہی نے لہو نچوڑ دیا کردیا ریزہ ریزہ ہستی کواس طرح مجھ کو

وقت نے اعتبار توڑ دیا Read More »

ہے عطائے رب تو پھر کیوں یہ ہمیں بھاری لگے

ہے عطائے رب تو پھر کیوں یہ ہمیں بھاری لگےزندگی ہر روپ میں ہر رنگ میں پیاری لگے ٹھوکریں کھا کر سنبھلنا فطرت۔انسان ہےکب سنبھلتا ہے وہ جب تک ضرب نہ کاری لگے ماسوائے رب کہیں وہ ہاتھ پھیلاتا نہیںدولتِ دنیا سے بڑھ کر جس کو خود داری لگے دوستی کے نام پر کچھ اس

ہے عطائے رب تو پھر کیوں یہ ہمیں بھاری لگے Read More »

وہ وقت ، لوگ ، وہ پہلی سی چاہتیں نہ رہیں

وہ وقت ، لوگ ، وہ پہلی سی چاہتیں نہ رہیںہماری جھولی میں پہلی سی راحتیں نہ رہیں ہے راس آ گیا جب سے سکوت۔ تنہائیوہ رتجگے ، وہ محافل ،وہ ساعتیں نہ رہیں بدلتے وقت نے ہر آ رزو کچل ڈالیجنم جو لیتی تھیں دل میں وہ خواہشیں نہ رہیں گزار آ ئے ہیں

وہ وقت ، لوگ ، وہ پہلی سی چاہتیں نہ رہیں Read More »

رشتہ ہر ایک توڑ دیا ہے خوشی کے ساتھ

رشتہ ہر ایک توڑ دیا ہے خوشی کے ساتھ” الفت سی ہوگئی ہے غم۔ زندگی کے ساتھ” کہتے تھے جی نہ پائیں گے تیرے بغیر ہمپر جی رہے ہیں آ ج بھی تیری کمی کے ساتھ ایسا بھی کیا قصور کوئی ہم سے ہوگیاملتا تو ہے وہ ہم سے مگر بے رخی کے ساتھ الزام

رشتہ ہر ایک توڑ دیا ہے خوشی کے ساتھ Read More »

پر سفر اب بھی میرا جاری ہے

دور گرچہ بہت سے دیکھے ہیںپر سفر اب بھی میرا جاری ہےعشق کرتا ہوں ساری دنیا سےفیض ملتا ہے غم کے دریا سےمجھ کو لاحق ہے یہ ہی بیماریمیرے اندر ہے جنگ اک جارینت نئے واقعے بھی دیکھے ہیںان گنت حادثے بھی دیکھے ہیںمیں نے دیکھا ہے زندگی کو بھیموت کے سانحےبھی دیکھے ہیںجینا سیکھا

پر سفر اب بھی میرا جاری ہے Read More »

کبھی لوٹ کر نہ آنا

Kabhi loot kar no aana نظم شبِ غم تھی بیقراریتری یاد کی سواریمجھے اپنے ساتھ لے کرمرا ہاتھ ، ہاتھ لے کرمجھے لے گئی وہاں پرملے تھے کبھی جہاں پروہی نیم کا شجر تھاوہاں کوئی نا مگر تھاوہی چھوٹی سی کیاریجو اُجڑ گئی تھی ساریوہی ٹوٹی ایک کُرسیمجھے دیکھ کر وہ رو دیمیں بِکھر بِکھر

کبھی لوٹ کر نہ آنا Read More »

اے آہِ بےقرار ذرا دیر تو ٹھہر

Ayee Aah bay qarar zara deer to Tehar غزل اے آہِ بےقرار ذرا دیر تو ٹھہرآجائے گا قرار ذرا دیر تو ٹھہر کچھ دیر کو ٹھہر کہ مرے درد کی دواہو جائے دل فِگار ذرا دیر تو ٹھہر کچھ انتظام نالۂ ِشب گیر کے لیےدامن ہو تار تار ذرا دیر تو ٹھہر روح و بدن

اے آہِ بےقرار ذرا دیر تو ٹھہر Read More »

دل کو رکھا جو حقائق کی نگہبانی پر

دل کو رکھا جو حقائق کی نگہبانی پر شکر میں نے کیا اپنی کسی نادانی پر کل اچانک وہ مرا لوٹ کے آ نے والا کتنا حیران ہوا ہے مری حیرانی پر اب کوئی خواب ہے آنکھوں میں نہ جگنو نہ دیا میں پریشان ہوں اس بے سر وسامانی پر بخش کے مجھ کو مری

دل کو رکھا جو حقائق کی نگہبانی پر Read More »

محبت داستاں ہوتے ہوئے بھی

محبت داستاں ہوتے ہوئے بھی حقیقت ہے گماں ہوتے ہوئے بھی بہالیتا ہے اپنے ساتھ اکثر سمندر مہرباں ہوتے ہوئے بھی نجانے دھوپ میں کیوں جل رہے ہیں پرندے آشیاں ہوتےہوئے بھی دلوں میں رقص کرتے ہیں ستارے غبار کہکشاں ہوتےہوئے بھی گھروندوں سے دھواں اٹھنے لگا ہے سروں پر سایباں ہوتے ہوئے بھی پہنچ

محبت داستاں ہوتے ہوئے بھی Read More »