MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

تا عمر ایک شخص مٹاتا رہا گناہ

تا عمر ایک شخص مٹاتا رہا گناہ قرطاسِ زیست پر جو تھا لکھا ہوا گناہ نسلِ یزید گرچہ زمانے میں عام ہے کرنا نہیں کبھی یوں شقاوت بھرا گناہ تفہیم کس سے ہوسکے حق کے کلام کی افہام خود ہی کرنا ہے کردار کا گناہ بندہ خدا کا بن کہ رہ دنیا میں تو سدا

تا عمر ایک شخص مٹاتا رہا گناہ Read More »

ہوتا رہا ہے دل مرا بیتاب روز روز

ہوتا رہا ہے دل مرا بیتاب روز روز وہ دید سے کرتے نہیں سیراب روز روز شق ہوگیا ہے چاند محبت کی راہ میں کھلتا نہیں ہے چہرہ ءِ مہتاب روز روز صد شکر مل گیا وہ مقدر سے راہ میں ہوتے نہیں کرم کے یوں اسباب روز روز صدیق کہدیا کبھی فاروق و بوتراب

ہوتا رہا ہے دل مرا بیتاب روز روز Read More »

نظر کو میری تُو اپنی نظر بنائے جا

نظر کو میری تُو اپنی نظر بنائے جا مثالِ پردہ ہوں جلوہ نما بنائے جا ارادہ بیچ کے مرضی خرید لی تیری میں تیرا ہوگیا اپنا مجھے بنائے جا میں آنکھ رکھتا ہوں لیکن تجھے نہیں دیکھا ہٹاکے پردہ نظر کا نظر بنائے جا بدل ہی جائے میری کائنات کا نقشہ وہ ایک گھونٹ محبت

نظر کو میری تُو اپنی نظر بنائے جا Read More »

یہ ان کی نظر کا اثر دیکھتے ہیں

یہ ان کی نظر کا اثر دیکھتے ہیں ہمیں آپ جو باہنر دیکھتے ہیں کوئی ان سا لاکھوں میں دیکھا نہیں ہے یہ دنیا میں سب ڈھونڈ کر دیکھتے ہیں سدا ان کے چہرے سے پاکر ضیائیں چمکتے یہ شمس و قمر دیکھتے ہیں کوئی مل ہی جائے گی تعبیر ہم کو حسیں خواب جو

یہ ان کی نظر کا اثر دیکھتے ہیں Read More »

تا ابد زمانے پر سلطنت ہماری ہے

تا ابد زمانے پر سلطنت ہماری ہے دوست اور دشمن سے انسیت ہماری ہے تم نے کیا نہیں دیکھا سرنگوں فرشتوں کو کتنی اعلیٰ و ارفع مرتبت ہماری ہے نور ہو جو آنکھوں میں آئے گا نظر تم کو نوری سب جبینوں پر تمکنت ہماری ہے خلق سے محبت ہے حُسنِ خُلق فطرت ہے قلب

تا ابد زمانے پر سلطنت ہماری ہے Read More »

فکر وفن،شعروسخن،مفہوم وعنواں کچھ نہیں

فکر وفن،شعروسخن،مفہوم وعنواں کچھ نہیں وسعتِ دل کے بنا فیضانِ عرفاں کچھ نہیں کیا بھلا سمجھا سکیں گے بات یہ اہل خرد "ایک ہوکر چاک دامان و گریباں کچھ نہیں " راستی ہو ہر قدم پر زندگی کی دھوپ میں سر پہ سایہ حق کا ہو تو دل پریشاں کچھ نہیں دستِ غفلت نے کِیا

فکر وفن،شعروسخن،مفہوم وعنواں کچھ نہیں Read More »

نکھرا ہے اور نکھرتا رہے گا نگارِ فن

نکھرا ہے اور نکھرتا رہے گا نگارِ فن خوشبو ادب کودیتی رہےگی بہارِ فن بحرِ فنا میں ڈوبنے والا تھا وہ مگر اسکو لگا ریا ہے کنارے شعارِ فن ہے جس کے دل میں عشق اسی کی ہے زندگی سمجھا رہا ہے شام و سحر یہ مدارِ فن رہتا ہے آتے ہیں یاد تیرے ہی

نکھرا ہے اور نکھرتا رہے گا نگارِ فن Read More »

بھلا اور کوئی بسے کیا نظر میں

بھلا اور کوئی بسے کیا نظر میں تُو ہی تُو ہے ہر سُو سجا بحر و بر میں کوئی ہے سفر میں کوئی ہے بھنور میں بشر پھنس گیا ہے یہاں سیم و زر میں فقط تجھ کو پانے کی ہی آرزو میں مری زندگی ہے مسلسل سفر میں تجھے ڈھونڈنے ڈھونڈتے آ گیا ہوں

بھلا اور کوئی بسے کیا نظر میں Read More »

مئے وحدت کی کہاں کوئی کمی ہے ساقی

مئے وحدت کی کہاں کوئی کمی ہے ساقی جام بھر بھر کے ترے نام سے پی ہے ساقی بزم تیری تو یہاں خوب سجی ہے ساقی لطف میں تیرے نہیں کوئی کمی ہے ساقی دین و ایمان ملا جس کی بدولت ہم کو مستی اس کی ہی مرے دل میں بسی ہے ساقی مئے عرفاں

مئے وحدت کی کہاں کوئی کمی ہے ساقی Read More »

مجھ میں رہ کر میں ہی میں آخر یہ کہتا کون ہے

مجھ میں رہ کر میں ہی میں آخر یہ کہتا کون ہے تُو نہیں ہے تو بتا مجھ میں سراپا کون ہے فخر سے تم پوچھتے ہو ہم سے اچھا کون ہے تم سے اچھے تو تمہیں ہو تم سے اچھا کون ہے تُو مرا ہے آئینہ اور میں ترا ہوں آئینہ مجھ کو سمجھا

مجھ میں رہ کر میں ہی میں آخر یہ کہتا کون ہے Read More »