تا عمر ایک شخص مٹاتا رہا گناہ
تا عمر ایک شخص مٹاتا رہا گناہ قرطاسِ زیست پر جو تھا لکھا ہوا گناہ نسلِ یزید گرچہ زمانے میں عام ہے کرنا نہیں کبھی یوں شقاوت بھرا گناہ تفہیم کس سے ہوسکے حق کے کلام کی افہام خود ہی کرنا ہے کردار کا گناہ بندہ خدا کا بن کہ رہ دنیا میں تو سدا
تا عمر ایک شخص مٹاتا رہا گناہ Read More »