بعد از ہوائے تُند نشیمن نہیں رہا
بعد از ہوائے تُند نشیمن نہیں رہا اَشجار پر طیور کا خرمن نہیں رہا اس موسمِ بہار تو آیا ہے کس گھڑی اب دل سے کوئ رشتۂ گلشن نہیں رہا چہرے پہ میرے جھرّیاں پڑنے لگیں تَو کیا اس حسن ناز پر بھی تَو جوبن نہیں رہا ٹکرائے اِس طرح کے ابھی چور ہو گئے
بعد از ہوائے تُند نشیمن نہیں رہا Read More »