MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

بعد از ہوائے تُند نشیمن نہیں رہا

بعد از ہوائے تُند نشیمن نہیں رہا اَشجار پر طیور کا خرمن نہیں رہا اس موسمِ بہار تو آیا ہے کس گھڑی اب دل سے کوئ رشتۂ گلشن نہیں رہا چہرے پہ میرے جھرّیاں پڑنے لگیں تَو کیا اس حسن ناز پر بھی تَو جوبن نہیں رہا ٹکرائے اِس طرح کے ابھی چور ہو گئے

بعد از ہوائے تُند نشیمن نہیں رہا Read More »

جب بھی آنکھوں نے تری دید کی حسرت کی ہے

جب بھی آنکھوں نے تری دید کی حسرت کی ہے آ کے رخساروں سے اشکوں نے شکایت کی ہے میرے پہلو سے نکل کر تو جدھر چاہے بکھر گل نے خوش بو کو یہ آزادی عنایت کی ہے باندھ لو رختِ سفر پیڑ کے سوکھے پتّو! شہر میں آج ہواؤں نے بغاوت کی ہے اے

جب بھی آنکھوں نے تری دید کی حسرت کی ہے Read More »

سمٹ ہی جائے گی ہر رہ گزر آہستہ آہستہ

سمٹ ہی جائے گی ہر رہ گزر آہستہ آہستہ کرے گل زندگی اپنا سفر آہستہ آہستہ اسیرِ شوقِ بے حد ایک سب وہ ہو ہی جائیں گے کہ ہوگا پیار کا دل پر اثر آہستہ آہستہ بہت گہرے ہیں دریا ڈوبنے سے خوف آتا ہے میں ان آنکھوں میں اتروں گا مگر آہستہ آہستہ اجالا

سمٹ ہی جائے گی ہر رہ گزر آہستہ آہستہ Read More »

کالی گھٹا کی اَوڑھنی چہرے پہ ڈال کر

کالی گھٹا کی اَوڑھنی چہرے پہ ڈال کر بیٹھا فلک پہ چاند ہے گھونگھٹ نکال کر حالانکہ ہیں یہ دل کئ تکالیف کا سبب رکھتا ہوں تیری یادوں کو پھر بھی سنبھال کر ہر شخص تر بہ تر ہے پسینے سے راہ میں سورج! مسافروں کا تو کچھ تَو خیال کر اب تَو گزارنا بھی

کالی گھٹا کی اَوڑھنی چہرے پہ ڈال کر Read More »

پیڑ پودوں پہ جمی گرد ہٹانے کے لیے

پیڑ پودوں پہ جمی گرد ہٹانے کے لیے بارشیں آتی ہیں دھرتی کو سجانے کے لیے جس کے سائے میں ٹہرتے تھے مسافر آکر پیڑ کاٹا وہ گیا آگ جلانے کے لیے اپنے بچےکے سسکنے کی صدائیں سن کر دوڑ کر آئ ہے ماں جھولا جھلانے کے لیے مجھ کو معلوم ہے تُو ساتھ رقیبوں

پیڑ پودوں پہ جمی گرد ہٹانے کے لیے Read More »

تیرگی سے نہ روشنی سے کوئی

تیرگی سے نہ روشنی سے کوئی غرض ہم کو کب کسی سے کوئی کھیل حالات کا ہے یہ پیارے بیچتا گھر ہے کب خوشی سے کوئی ہم تَو بے لوث ہی رہے اس پر آس رکھتے نہیں کسی سے کوئی ایک لمحہ سکون کا لا دے شب کی خاموشی تیرگی سے کوئی اپنے پیاروں سے

تیرگی سے نہ روشنی سے کوئی Read More »

ساون رُتوں میں دامنِ تر کچھ نہ پوچھیے

ساون رُتوں میں دامنِ تر کچھ نہ پوچھیے ہم سے وہ بارشوں کا سفر کچھ نہ پوچھیے الفت کے راستوں پہ لیے بارِ زندگی کٹتا ہے کس طرح سے سفر کچھ نہ پوچھیے کاٹا گیا تھا حس گھڑی آنگن سے پیڑ کو روئے تھے کیسے برگ و ثمر کچھ نہ پوچھیے وہ دوستوں میں ہے

ساون رُتوں میں دامنِ تر کچھ نہ پوچھیے Read More »

مری غزلیں مری نظمیں مرے نغمے تمہارے ہیں

مری غزلیں مری نظمیں مرے نغمے تمہارے ہیں مرے سرتال اور سنگیت کے دھارے تمہارے ہیں جو گلشن میں کھلے ہیں پھول وہ سارے تمہارے ہیں فلک پر جتنے نکلے ہیں وہ سب تارے تمہارے ہیں جہاں بھی خار بکھرے ہیں وہ میرے راستے ہیں سب جہاں بھی پھول بکھرے ہیں وہ سب رستے تمہارے

مری غزلیں مری نظمیں مرے نغمے تمہارے ہیں Read More »

کس کی یہ سیاست ہے کس کی ہیں یہ تدبیریں

Kis ki yeh Siasat Hya Kis ki hain yeh Tadbeerain غزل کس کی یہ سیاست ہے کس کی ہیں یہ تدبیریں رہزنوں نے پائی ہیں رہبروں کی تقدیریں میرے خوابِ وحشت کی جانے کیا ہوں تعبیر یں دار ہے نہ زنداں ہے طوق ہے نہ زنجیریں آپ کی امانت ہیں آپ ہی مٹا دیجے یہ

کس کی یہ سیاست ہے کس کی ہیں یہ تدبیریں Read More »

ہوں برگِ سبز نہ کر شاخ سے جدا مجھ کو

Hoon Barg e sabz no kar shaakh say juda Mujh ko غزل ہوں برگِ سبز نہ کر شاخ سے جدا مجھ کو نئی رتوں کے مناظر ابھی دکھا مجھ کو اب انتظار کی بیساکھیاں بھی ٹوٹ گئیں میں گر نہ جاؤںخدا کے لئے بچا مجھ کو چہار سمت ببولوں کاہے گھنا جنگل حیات کھینچ رہی

ہوں برگِ سبز نہ کر شاخ سے جدا مجھ کو Read More »