MOJ E SUKHAN

تا عمر ایک شخص مٹاتا رہا گناہ

تا عمر ایک شخص مٹاتا رہا گناہ
قرطاسِ زیست پر جو تھا لکھا ہوا گناہ

نسلِ یزید گرچہ زمانے میں عام ہے
کرنا نہیں کبھی یوں شقاوت بھرا گناہ

تفہیم کس سے ہوسکے حق کے کلام کی
افہام خود ہی کرنا ہے کردار کا گناہ

بندہ خدا کا بن کہ رہ دنیا میں تو سدا
بنتا ہے تو خدا جو کہ ہے یہ بڑا گناہ

پڑھ کر درود مانگی ہے جب بھی کوئی دعا
رب کی عطائیں ہوگئیں سارا مٹا گناہ

توبہ کا در کھلا ہے ابھی جا کے مانگ لے
غفار بخش دے گا مٹا کر ترا گناہ

سخی سرمست

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم