MOJ E SUKHAN

تیرگی سے نہ روشنی سے کوئی

تیرگی سے نہ روشنی سے کوئی
غرض ہم کو کب کسی سے کوئی

کھیل حالات کا ہے یہ پیارے
بیچتا گھر ہے کب خوشی سے کوئی

ہم تَو بے لوث ہی رہے اس پر
آس رکھتے نہیں کسی سے کوئی

ایک لمحہ سکون کا لا دے
شب کی خاموشی تیرگی سے کوئی

اپنے پیاروں سے یار ملتا ہے
عید کے دن بھی بے رخی سے کوئی

جب قصور اپنا ہی نکلتا ہو
کیا شکایت کرے کسی سے کوئی

موت کے راستے پہ شمس چلا!
ہار کر آج زندگی سے کوئی

ظہیر الدین سمش

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم