تھے جہاں دیدہ مگر کھا گئے دھوکا کیسے
They Jahan deeda magar kha gayee dhooka kaisay غزل تھے جہاں دیدہ مگر کھا گئے دھوکا کیسے کرلیا آپ نے دنیاپہ بھروسا کیسے تیری آواز میں اندازِ صداقت ہی نہ تھا سلسلہ دارو رسن سے ترا ملتا کیسے وقت تو آپ کی مٹھی میں تھا قیدی کی طرح دے دیا وقت نے پھر آپ کو
تھے جہاں دیدہ مگر کھا گئے دھوکا کیسے Read More »