MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

تھے جہاں دیدہ مگر کھا گئے دھوکا کیسے

They Jahan deeda magar kha gayee dhooka kaisay غزل تھے جہاں دیدہ مگر کھا گئے دھوکا کیسے کرلیا آپ نے دنیاپہ بھروسا کیسے تیری آواز میں اندازِ صداقت ہی نہ تھا سلسلہ دارو رسن سے ترا ملتا کیسے وقت تو آپ کی مٹھی میں تھا قیدی کی طرح دے دیا وقت نے پھر آپ کو

تھے جہاں دیدہ مگر کھا گئے دھوکا کیسے Read More »

میں اپنی وفاؤں کا اور اس سے صلہ مانگوں

Main apni wafaoon ka aur is say sila mangoon غزل میں اپنی وفاؤں کا اور اس سے صلہ مانگوں جب تجھ سے نہیں مانگا انسان سے کیا مانگوں آتا ہے مرے آ گے ہر لمحہ سزا بن کر کس حوصلئہ دل پر جینے کی دعا مانگوں اک عمر پہ بھاری ہے یہ لمحہ مسرت کا

میں اپنی وفاؤں کا اور اس سے صلہ مانگوں Read More »

دل میں زخموں کی نئی فصل اگانے نکلے

Dil Main zakhmoon ki naee fasl Uganay Nikly غزل دل میں زخموں کی نئی فصل اگانے نکلے درد کے پھول بیاباں میں کھلانے نکلے ہر عمارت پہ نئے سال کا کتبہ دیکھا پہونچے نزدیک تو آثار پرانے نکلے پہلے ہر در پہ رکھے شعلہ بیانی کے دئے جل اٹھا شہر تو پھر آگ بجھانے نکلے

دل میں زخموں کی نئی فصل اگانے نکلے Read More »

بے کسی زیست میں شامل کبھی ایسی تو نہ تھی

Baykasi zeest main Shamil Kabhi aysi tu na thee غزل بے کسی زیست میں شامل کبھی ایسی تو نہ تھی اب جو ہے کیفیتِ دل کبھی ایسی تو نہ تھی یوں تو ہر گام پہ کھلتے رہے زخموں کے گلاب زندگی صورتِ بسمل کبھی ایسی تو نہ تھی مہرباں پہلے بھی کب تھی میری تقدیر

بے کسی زیست میں شامل کبھی ایسی تو نہ تھی Read More »

میں بھی دیکھوں آئینہ دینا مجھے

Main bhi dekhoon aaeena dena mujhy غزل میں بھی دیکھوں آئینہ دینا مجھے کہہ رہے ہیں لوگ بے چہرہ مجھے میں کہ ٹھہری اک حقیقت آشنا ایسے ویسے خواب مت دکھلا مجھے لطف اب دینے لگی آوارگی جستجو اب حشر تک بھٹکا مجھے پھر کوئی تازہ غلط فہمی ہوئی مسکرا کر آپ نے دیکھا مجھے

میں بھی دیکھوں آئینہ دینا مجھے Read More »

ہے حکمِ اہلِ شہرِ نگاراں غزل کہو

Hay Hukm Ahl e Shehr e Nigaran Ghazal Kaho ہے حکمِ اہلِ شہرِ نگاراں غزل کہو جھوم اٹھّیں جس کو سن کے غزالاں غزل کہو پھولوں کی نکہتیں ہوں تو کلیوں کا بانک پن بن جائے بزمِ جانِ بہاراں غزل کہو ایسے ہوں رنگ اس میں دھنک کا گمان ہو روشن ہو جیسے شمعِ شبستاں

ہے حکمِ اہلِ شہرِ نگاراں غزل کہو Read More »

نکلنا بچ کے ان اونچے مکان والوں سے

Nikalna Bach kay in aunchay makan waloon say غزل نکلنا بچ کے ان اونچے مکان والوں سے ملےگا کیا تمہیں ان آسمان والوں سے غموں کی دھوپ ہے تنہائیاں ہیں صحرا ہے ہوں پرسکون مگر سائبان والوں سے میں اپنے قد پہ نظر رکھ کے بات کرتی ہوں رکھا ہے فاصلہ میں نے گمان والوں

نکلنا بچ کے ان اونچے مکان والوں سے Read More »

لفظوں کے پتِھروں سے نہ زخمی کرو مجھے

Lafzoon kay patharoo say na zakhmi karo mujhy غزل لفظوں کے پتِھروں سے نہ زخمی کرو مجھے بہتر ہے قتل کردو مرے دوستو مجھے چہرے سیاہ کر گئی غیبت کی تیز دھوپ میں نے کہا نہ تھا کہ برا مت کہو مجھے نیلا ہٹوں کی زد پہ ہے ہر شخص کا بدن اس صم کدے

لفظوں کے پتِھروں سے نہ زخمی کرو مجھے Read More »

بے خودی سی جو مرے تن میں رچی ہے ساقی

Baykhudi si jo mry Tan main rachi hay Saqi غزل بے خودی سی جو مرے تن میں رچی ہے ساقیمے ، تری چشمِ فسوں ساز سے پی ہے ساقی یہ چھلکتے ہوئے ، خُم ، جام ، صراحی، ساغرکیا ہی سیراب مری تشنہ لبی ہے، ساقی لا ، کوئی جامِ سکینت، کہ قرار آئے اِسےمیرے

بے خودی سی جو مرے تن میں رچی ہے ساقی Read More »

نہ کرنا عشق، سمجھایا تھا اِس میں جان جانی ہے

Na karna Ishq Samjhaya tha is main jaan Jaati Hay غزل نہ کرنا عشق، سمجھایا تھا اِس میں جان جانی ہےمگر، کم بخت دل نے کب ہماری بات مانی ہے ؟ نہیں ہے دل، کوئی پارا ہے رقصاں جیسے سینے میںلہو کب ہے ، رواں رگ رگ میں آبِ ارغوانی ہے یونہی دُھنتے نہیں ہیں

نہ کرنا عشق، سمجھایا تھا اِس میں جان جانی ہے Read More »