کچھ تری خاطر مری جاں، کچھ زمانے کے لیے
Kuch Tri Khatir mri jaan Kuch Zamany kay lyee غزل کچھ تری خاطر مری جاں، کچھ زمانے کے لیےشعر ہیں میرے، دلوں کو گُد گُدانے کے لیے عید پر ان کا تقاضا تھا کہ ہوں چپلی کبابگھی کڑاہی میں چڑھایا ، کڑ کڑانے کے لیے حضرتِ نقاد کی ہرزہ سرائی، الاماںآ گیا ہے بینڈ سب
کچھ تری خاطر مری جاں، کچھ زمانے کے لیے Read More »