MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

کچھ تری خاطر مری جاں، کچھ زمانے کے لیے

Kuch Tri Khatir mri jaan Kuch Zamany kay lyee غزل کچھ تری خاطر مری جاں، کچھ زمانے کے لیےشعر ہیں میرے، دلوں کو گُد گُدانے کے لیے عید پر ان کا تقاضا تھا کہ ہوں چپلی کبابگھی کڑاہی میں چڑھایا ، کڑ کڑانے کے لیے حضرتِ نقاد کی ہرزہ سرائی، الاماںآ گیا ہے بینڈ سب

کچھ تری خاطر مری جاں، کچھ زمانے کے لیے Read More »

فشارِ خون میں شامل، حسینؑ کا غم ہے

منقبت فشارِ خون میں شامل، حسینؑ کا غم ہےتڑپتی روح کی منزل، حسینؑ کا غم ہے کرم ہوا ، ہوئے یاور جو اشک، رقت میںکرم ہے، دل کو جو حاصل حسینؑ کا غم ہے کسی بھی رنج کی وقعت نہیں رہی، کہ یہاںہر ایک غم کے مقابل، حسینؑ کا غم ہے ہے تیری خاک الگ،

فشارِ خون میں شامل، حسینؑ کا غم ہے Read More »

حیات تھی کہ آب پر حُباب ، کچھ خبر نہیں

Hayaat thi ko Aab per Hubab kuch khabar nahi غزل حیات تھی کہ آب پر حُباب ، کچھ خبر نہیںکہ جاگتے میں دیکھا کوئی خواب، کچھ خبر نہیں خلوص تھا عبادتوں میں یا چُھپی منافقتملیں عذاب یا ملیں ثواب ، کچھ خبر نہیں سوادِ شہرِ عشق میں بنا لیا ہے گھر ، مگرسکونِ جاں ملے

حیات تھی کہ آب پر حُباب ، کچھ خبر نہیں Read More »

ہنسی گر دیکھنی ہےغم سے پہلے

Hansi gar dekhni hay Gham say pehlay غزل ہنسی گر دیکھنی ہےغم سے پہلےملو پھر میری چشمِ نم سے پہلے بس اب رہتا ہے دل میں رنج تیراتری تصویر تھی اس غم سے پہلے نہ تھی شاہی سے کم میری فقیریمیرا کاسہ تھا جامِ جم سے پہلے سنورتی ہی نہیں جو، زلف تیریبہت آساں تھی

ہنسی گر دیکھنی ہےغم سے پہلے Read More »

ترا کرم ہے گماں سے بعید ، بسم اللہ

Tra Karam hay Gumaan say baeed Bismillah غزل ترا کرم ہے گماں سے بعید ، بسم اللہتری فقیر ہوں ، تیری مُرید ، بسم اللہ تجھے پسند ہیں گر، مرحبا یہ رنج و الممرے غموں سے خوشی کر کشید، بسم اللہ ملے تو ہوں گے، محبت بھرے مرے نامےکوئی جواب ، کوئی تو رسید ،

ترا کرم ہے گماں سے بعید ، بسم اللہ Read More »

کھڑی ہے در پہ آپﷺ کے غلام، ذی حشم

Khari Hay dar pa aap kay ghulam zee Hasham نعت کھڑی ہے در پہ آپﷺ کے غلام، ذی حشماِن آنسوؤں کا لیجیے سلام ، ذی حشم یہ شانِ پاک آپﷺ کی ، یہ میری لکنتیںزباں کرے بھی کس طرح کلام ، ذی حشم میں بھر کے لائی ڈالیاں، چُنے ہیں عمر بھردرود کے یہ پُھول

کھڑی ہے در پہ آپﷺ کے غلام، ذی حشم Read More »

لائی ہو خوشبو درِ سرکارﷺ کی، خوش آمدید

Laai Ho Khushboo dr e sarkar ki khush aamdeed نعت لائی ہو خوشبو درِ سرکارﷺ کی، خوش آمدیداے ہوائے سروری ، اے دلبری ، خوش آمدید ۔بس قدم رکھا مدینے میں، یہ جھرنا ہو گئیںاے خوشا آنکھوں کی یہ وارفتگی، خوش آمدید اپنی رحمت میں لیا ایسے کہ سب عصیاں دُھلےیہ کرم کی بارشیں ،

لائی ہو خوشبو درِ سرکارﷺ کی، خوش آمدید Read More »

ہوا میرے آنگن سے روتی گئی

ہوا میرے آنگن سے روتی گئی خوشی درد کا بیج بوتی گئی ۔ میں ٹھہروں زرا اس کا اصرار تھا مگر پھر بہت دیر ہوتی گئی سفر تھا ستاروں کے ہمراہ جب میں گھر کے چراغوں کو کھوتی گئی حقائق وہ بے ساختہ کہہ گیا میں خوابوں سے محروم ہوتی گئی وہ منظر قیامت کے

ہوا میرے آنگن سے روتی گئی Read More »

ترے کوچے کی تیاری بہت ہے

ترے کوچے کی تیاری بہت ہے مگر یہ جان بھی پیاری بہت ہے ہمارے شہر کے دیوار و در پر یہ شب کٹنے تلک بھاری بہت ہے ہمارےباغ جلتے جارہے ہیں اگرچہ شغل گلکاری بہت ہے ہر اک سو دام ہیں ان راستوں میں مگر ہم میں بھی ہشیاری بہت ہے ۔ ابھرتے ڈوبتے ان

ترے کوچے کی تیاری بہت ہے Read More »

طبیعت آج گھبرئی بہت ہے

طبیعت آج گھبرئی بہت ہے سر محفل بھی تنہائی بہت ہے ہمارے دل کی ویرانی ہمیشہ ترے گھر کھینچ کے لائی بہت ہے اگرچہ عشق ہے گھاٹے کا سودا مگر دل ہے کہ سودائی بہت ہے ۔بہت بیتاب ہیں گرنے کو آنسو مگر اس میں تو رسوائی بہت ہے ذرا اک بار پھر آواز دینا

طبیعت آج گھبرئی بہت ہے Read More »