Hairaan Hoon Kaisay Zindagi meri Badal Gaee
غزل
حیراں ہوں کیسے زندگی میری بدل گئی
تھی عام اور خواص میں چپ چاپ ڈھل گئی
رسمِ جہیز بن گیا دیوار تب ہی تو
کتنی ہی بیٹیوں کی جوانی نکل گئی
جو بات صبح و شام تھی موجود درمیاں
وہ بات اب حدود سے باہر نکل گئی
عورت کی ذات اس لیے پیکر وفا کی ہے
چاہت میں ڈھل گئی کبھی نفرت میں پل گئی
منظر عجیب سا تھا پتنگے کی موت کا
شمعِ نے پرسہ ایسے دیا کے پگھل گئی
اس زندگی کا کیسا عجب سا شغف ھے یہ
دکھ میں جھلس،کبھی دکھ میں بہل گئی
کر جاتی وار دل پہ محبت مرے مگر
صد شکر اس کے ہونے سے پہلے سنبھل گئی
کشمیر شام اور ھے برما لہولہان
میں خود پرست ان کی کہانی نگل گئ
اتنی شدید اپنوں کے لہجوں کی تھی تپش
میں سہہ نہ پائی بچ نہ سکی اور جل گئی
کر کے سپردِ خاک محبت کو وہ مری
اب کہہ رہی ھے ہنستے ہوئے میں سنبھل گئی
شاہین مغل
Shaheen Mughal