MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

کس نے کہا کہ ان کے اجا لوں میں دم نہیں

کس نے کہا کہ ان کے اجا لوں میں دم نہیں میرے چراغ چاند ستاروں سے کم نہیں رک رک کے سانس لیتا ھے رستے میں بار بار وہ میرا ہم سفر ھے مگر ہم قدم نہیں آنکھوں میں اب ہماری وہ نیلا ہٹیں کہاں دل میں ہمارے اب تری یادوں کا سم نہیں پوچھا

کس نے کہا کہ ان کے اجا لوں میں دم نہیں Read More »

زلفِ برہم کی طرف تھیں نہ کسی تل کی طرف

زلفِ برہم کی طرف تھیں نہ کسی تل کی طرف میری نظریں تھیں فقط اپنی ہی منزل کی طرف جان کر گہرے سمندر کو یہ اچھا نہ لگا کشتیاں محوِسفر ہیں کسی ساحل کی طرف مجھ کو اک یار کے ہاتھوں کے نشاں یاد آئے میں نے جب غور سے دیکھا کفِ قاتل کی طرف

زلفِ برہم کی طرف تھیں نہ کسی تل کی طرف Read More »

بنا منزل کا رستہ ناپنے سے

بنا منزل کا رستہ ناپنے سے ملے گا کیا ہوائیں پھانکنے سے کسی کو مت بتانا سب ہنسیں گے ہمیشہ بڑھتا ھے غم بانٹنے سے وہ بوڑھا جو برا لگتا تھا سب کو بڑی رونق تھی اسکے کھانسنے سے یہ دن بھی ہاتھ سے جاتا رھے گا ضرورت سے زیادہ جاگنے سے گلی میں کچھ

بنا منزل کا رستہ ناپنے سے Read More »

قیدی ہو جیسے قید میں زنجیر کے بغیر

قیدی ہو جیسے قید میں زنجیر کے بغیر زندہ ہوں اس طرح تری تصویر کے بغیر سادہ دلی تو دیکھئے سانپوں کو مارنے تاریکیوں میں آگئے تنویر کے بغیر میرے عدو کو اے خدا اس کی خبر نہ ہو گھر سے نکل پڑا ہوں میں شمشیر کے بغیر وہ کہہ رہا ھے ساتھ نبھائے گا

قیدی ہو جیسے قید میں زنجیر کے بغیر Read More »

نہیں ھے غم جو مری راہ میں اشجار نہیں

نہیں ھے غم جو مری راہ میں اشجار نہیں میں بھی اب دھوپ میں سائے کا طلب گار نہیں شہر کو چھوڑ کے صحرا کی طرف چلتے ہیں سانس لینا تو کم ازکم وہاں دشوار نہیں سب نے مانا ھے تجھے اپنا مسیحا جب سے شہر کا شہر ہی بیمار ھے دوچار نہیں اس نے

نہیں ھے غم جو مری راہ میں اشجار نہیں Read More »

گھر میں کسی نمائشی سامان کے لئے

گھر میں کسی نمائشی سامان کے لئے گھر سے نکل پڑا ہوں بیابان کے لئے اس نے جو پوچھا ہاتھ میں کس کے لئے ہیں پھول دے کر میں اس کو بولا، مری جان کے لئے فاقہ کشی کا غم نہیں، کرتا ہو کلف دار ہم مر ر ھے ہیں اپنی اسی شان کے لئے

گھر میں کسی نمائشی سامان کے لئے Read More »

اگرچہ بول رہا ھے بڑے یقین کے ساتھ

اگرچہ بول رہا ھے بڑے یقین کے ساتھ اسے خبر نہیں میں بھی ہوں سامعین کے ساتھ فلک پہ چاند ستارے بھی رشک کرنے لگے میں چل رہا تھا زمیں پر کسی حسین کےساتھ مزید مجھ میں مسافت کی جب نہ تاب رہی تو تھک کے سو گیا میں بھی وہیں زمین کےساتھ گلوں کی

اگرچہ بول رہا ھے بڑے یقین کے ساتھ Read More »

امیر۔شہر کی عزت بچائی جاتی ھے

امیر۔شہر کی عزت بچائی جاتی ھے سو بے قصور پہ تہمت لگائی جاتی ھے خوشی ملی ھے مگر ایک مسئلہ ھے مرا خبر نہیں خوشی کیسے منائی جاتی ھے اس اہتمام سے چارہ گری نہیں ہوتی جس اہتمام سے میت اٹھائی جاتی ھے نظر پڑے نہ پڑے بے لباس جسموں پر مگر مزار پہ چادر

امیر۔شہر کی عزت بچائی جاتی ھے Read More »

نقلِ وطن کے بعد انہی حالات میں رہے

نقلِ وطن کے بعد انہی حالات میں رہےہم عمر بھر قدیم روایات میں رہے سوچا نہیں کسی نے قبیلے کے واسطےمصروف لوگ اپنے مفادات میں رہے انسان کی خرد کی ترقی کے باوجودپوشیدہ راز ارض و سماوات میں رہے پھیلائے پاؤں اتنے ہی چادر تھی جس قدرہم مفلس و غریب تھے اوقات میں رہے ڈوبے

نقلِ وطن کے بعد انہی حالات میں رہے Read More »

احساس تیرے پیار کا جب بھی جواں ہوا

احساس تیرے پیار کا جب بھی جواں ہوافرقت کا ایک لمحہ بھی مجھ پر گراں ہوا کوئی نہیں یہاں بھی مرا درد آشنا ! ! ! !گھر جس کو ہم سمجھتے تھے وہ بھی مکاں ہوا اب کانپتی ہے اس کی زباں بولتے ہوئےجو شخص اپنے وقت میں شعلہ بیاں ہوا ملتی کہاں سے اتنی

احساس تیرے پیار کا جب بھی جواں ہوا Read More »