کچھ خوفناک اندھی گپھاؤں میں قید ہیں
کچھ خوفناک اندھی گپھاؤں میں قید ہیںسب لوگ اپنی اپنی اناؤں میں قید ہیں نکلے جو لفظ منہ سے فضاؤں میں قید ہیںپیغام جانے کتنے ہواؤں میں قید ہیں آوارگی کا شکوہ وہ کرنے لگے مگرچکر ابھی کئی میرے پاؤں میں قید ہیں جاتی ہے اب کشادہ سڑک شہر کی طرفکچھ سادہ لوگ آج بھی
کچھ خوفناک اندھی گپھاؤں میں قید ہیں Read More »