MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

کچھ خوفناک اندھی گپھاؤں میں قید ہیں

کچھ خوفناک اندھی گپھاؤں میں قید ہیںسب لوگ اپنی اپنی اناؤں میں قید ہیں نکلے جو لفظ منہ سے فضاؤں میں قید ہیںپیغام جانے کتنے ہواؤں میں قید ہیں آوارگی کا شکوہ وہ کرنے لگے مگرچکر ابھی کئی میرے پاؤں میں قید ہیں جاتی ہے اب کشادہ سڑک شہر کی طرفکچھ سادہ لوگ آج بھی

کچھ خوفناک اندھی گپھاؤں میں قید ہیں Read More »

اپنی ہی ذات تک کا سفر کیجئے

اپنی ہی ذات تک کا سفر کیجئےمعرکہ زندگی کا یوں سر کیجئے پھولنے پھلنے دیں پہلے اشجار کوپھر کوئی آرزوئے ثمر کیجئے جن سے تضحیکِ انساں عیاں صاف ہوایسی باتوں سے تو در گزر کیجئے پھر یہ لمحات شائد ملیں نہ ملیںخود ہی سے گفتگو رات بھر کیجئے راہِ الفت کا انجام اب کچھ بھی

اپنی ہی ذات تک کا سفر کیجئے Read More »

ہوائیں تیز ‘ صحرا ہے مسلسل خوف کی زد میں

ہوائیں تیز ‘ صحرا ہے مسلسل خوف کی زد میںچراغِ راہ جلتا ہے مسلسل خوف کی زد میں اندھیری رات ، سایہ ہے مسلسل خوف کی زد میںوہ مُڑ مُڑ پیچھے تکتا ہے مسلسل خوف کی زد میں سفر کرنے لگی ہوں کاغذوں کی کشتیاں لے کرکہ دل اس وقت میرا ہے مسلسل خوف کی

ہوائیں تیز ‘ صحرا ہے مسلسل خوف کی زد میں Read More »

کھلتی نہیں ہے دل کی کلی میں اداس ہوں

کھلتی نہیں ہے دل کی کلی میں اداس ہوںدنیا منا رہی ہے خوشی میں اداس ہوں جذبوں کی داستاں مری کوئی نہ سن سکاہر بات دل کی دل میں رہی میں اداس ہوں چھایا ہوا ہے دل پہ زمانے کے غم کا بوجھگرچہ وصال کی ہے گھڑی میں اداس ہوں ہر موڑ پر الم مجھے

کھلتی نہیں ہے دل کی کلی میں اداس ہوں Read More »

اک پل ترے خیال سے غافل نہیں ہوئے

اک پل ترے خیال سے غافل نہیں ہوئےہم تیرے بے وفاؤں میں شامل نہیں ہوئے ہم عمر بھر سمجھتے رہے پارسا جنہیںوہ لوگ پارساؤں میں شامل نہیں ہوئے شاید کہ کھل گئی تھی حقیقت نباہ کیلمحے جدائیوں کے جو مشکل نہیں ہوئے کچھ بھید تو ضرور ہے اس زیر و بم کے بیچگہرے سمندروں سے

اک پل ترے خیال سے غافل نہیں ہوئے Read More »

جہاں میں فتنے اٹھاتی وبا کا دکھ ہے مجھے

جہاں میں فتنے اٹھاتی وبا کا دکھ ہے مجھےسروں پہ ناچتی پھرتی قضا کا دکھ ہے مجھے زمانے بھر کی نگاہوں میں تو مسیحا ہےکسے خبر کہ تری ہی دوا کا دکھ ہے مجھے مرے مزاج کے اپنے بھی کچھ تقاضے ہیںیہ اور بات کہ خلقِ خدا کا دکھ ہے مجھے بھرا نہیں ہے ابھی

جہاں میں فتنے اٹھاتی وبا کا دکھ ہے مجھے Read More »

اتنا عجب سماج میں یہ واقعہ نہیں

اتنا عجب سماج میں یہ واقعہ نہیںلٹ جانا چاہتوں کا کوئی مسئلہ نہیں ترکِ تعلقات بھی اس ہی کا حکم تھابنیاد اس ستم کی مرا فیصلہ نہیں گزری فراقِ یار میں کچھ یوں تمام راتکوئی دیا امید کا چھت پر جلا نہیں اس شہرِ پر فریب میں کھویا ہے اس طرحہم نے پکارا لاکھ مگر

اتنا عجب سماج میں یہ واقعہ نہیں Read More »

علاجِ گردشِ لیل و نہار کیسے ہو

علاجِ گردشِ لیل و نہار کیسے ہواجڑ گیا ہے جو دل پُر بہار کیسے ہو جو آج دشمنِ جاں بن کے رہ گیا ہے مراتعلق اس سے بھلا استوار کیسے ہو گزر چکے ہیں وہ شائد وفاؤں کے موسمکسی کے وعدوں پہ اب اعتبار کیسے ہو ہو جس کو اپنی تب و تاب کا ذرا

علاجِ گردشِ لیل و نہار کیسے ہو Read More »

اس سے پہلے کے نشانات مٹائے جائیں

اس سے پہلے کے نشانات مٹائے جائیںمیرے قاتل مرے سردار بنائے جائیں وقت سمجھاتا ہے انسان کو ہر بات تو پھرکیا ضروری ہے کے ہتھیار اٹھائے جائیں کھا گئے نوچ کے جو لوگ وطن کو میرےاب ضروری ہے کہ گھر ان کے جلائے جائیں وسوسے کھانے لگے ہیں در و دیوارِ یقیںفاصلے اس لیے آپس

اس سے پہلے کے نشانات مٹائے جائیں Read More »

یک طرفہ محبت نظم

یک طرفہ محبت سنو اے چاند سی لڑکیسنو پیاری سنو اے خوبرو لڑکیسنو سادہ پری چہرہحسیں دلکش مجھے کچھ تم سے ہے کہنامجھے تم اچھی لگتی ہوتخیل کے دریچوں میںجو خوشبو رقص کرتی ہےتمہاری ہی تو خوشبو ہےتمہاری مسکراہٹ گفتگو آنکھیں حسیں چہرہتمہاری ریشمی شانوں پہ لہراتی حسیں زلفیںتمہارا مسکرانا بولتی آنکھیں سنو لڑکیمجھے بے

یک طرفہ محبت نظم Read More »