MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

بنا منزل کا رستہ ناپنے سے

بنا منزل کا رستہ ناپنے سے
ملے گا کیا ہوائیں پھانکنے سے

کسی کو مت بتانا سب ہنسیں گے
ہمیشہ بڑھتا ھے غم بانٹنے سے

وہ بوڑھا جو برا لگتا تھا سب کو
بڑی رونق تھی اسکے کھانسنے سے

یہ دن بھی ہاتھ سے جاتا رھے گا
ضرورت سے زیادہ جاگنے سے

گلی میں کچھ اجالا ہو گیا ھے
کسی زہرہ جبیں کے جھانکنے سے

تری تصویر بھی ہنستی ھے مجھ پر
مسلسل بس اسی کو تاکنے سے

سنا ھے گھر میں اب کافی سکوں ھے
صحن کو آدھا آدھا بانٹنے سے

کسی کا یوں گزارا ہو رہا ھے
کسی کے جھوٹے برتن مانجھنے سے

تری فرقت میں مر جا نا تھا بہتر
تری فرقت میں شب بھر جاگنے سے

سہیل اقبال

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم