بنا منزل کا رستہ ناپنے سے
ملے گا کیا ہوائیں پھانکنے سے
کسی کو مت بتانا سب ہنسیں گے
ہمیشہ بڑھتا ھے غم بانٹنے سے
وہ بوڑھا جو برا لگتا تھا سب کو
بڑی رونق تھی اسکے کھانسنے سے
یہ دن بھی ہاتھ سے جاتا رھے گا
ضرورت سے زیادہ جاگنے سے
گلی میں کچھ اجالا ہو گیا ھے
کسی زہرہ جبیں کے جھانکنے سے
تری تصویر بھی ہنستی ھے مجھ پر
مسلسل بس اسی کو تاکنے سے
سنا ھے گھر میں اب کافی سکوں ھے
صحن کو آدھا آدھا بانٹنے سے
کسی کا یوں گزارا ہو رہا ھے
کسی کے جھوٹے برتن مانجھنے سے
تری فرقت میں مر جا نا تھا بہتر
تری فرقت میں شب بھر جاگنے سے
سہیل اقبال