MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

وہ مرے خواب بکھرنے کا سبب پوچھتا ہے

وہ مرے خواب بکھرنے کا سبب پوچھتا ہےغم کے دریا کے اترنے کا سبب پوچھتا ہے پہلے تو خود ہی گیا چھوڑ کے مجھ کو تنہاپھر مرے ٹوٹ کے گرنے کا سبب پوچھتا ہے جب میں ناکامِ محبت ہوں تو پھر کیسی اناآئنہ مجھ سے سنورنے کا سبب پوچھتا ہے سانحہ ہے کے ہے تاریک

وہ مرے خواب بکھرنے کا سبب پوچھتا ہے Read More »

رنگوں کی کہانی تھی خوشبو کی روانی تھی

رنگوں کی کہانی تھی خوشبو کی روانی تھیہونٹوں پہ زمانے کے جب اپنی کہانی تھی آنکھوں میں ہمارے بھی پوشیدہ کہانی تھیاک بات تھی جو تم کو ہم سے بھی چھپانی تھی تو نے ہی مجھے توڑا تو نے ہی مجھے جوڑاجو درد ملے مجھ کو تیری ہی نشانی تھی یاد آتے ہیں وہ لمحے

رنگوں کی کہانی تھی خوشبو کی روانی تھی Read More »

خواب جتنے تھے سبھی رات سے وابستہ تھے

خواب جتنے تھے سبھی رات سے وابستہ تھےاور یہ درد مری ذات سے وابستہ تھے میں رہا عشق میں ناکام مگر شعر یہ سباس کی خاطر سے مدارات سے وابستہ تھے جن کو ہر روپ میں ڈھلنے کا ہنر آتا ہےجانے کیا لوگ تھے کس دھات سے وابستہ تھے رنج و غم درد کے انبار

خواب جتنے تھے سبھی رات سے وابستہ تھے Read More »

بعد مدت کے مرے شہر میں آیا ہے کوئی

بعد مدت کے مرے شہر میں آیا ہے کوئیحوصلہ اک نیا جینے کا ملا ہے کوئی کتنا دل کش ہے یہ انداز ترے ملنے کایوں لگا جیسے بہاروں کی ادا ہے کوئی وقت کے ساتھ ہی بھر جائے گا یہ زخم نیازخم تازہ کی طرح مجھ سے خفا ہے کوئی میرے گلشن کی خدا خیر

بعد مدت کے مرے شہر میں آیا ہے کوئی Read More »

جب سے دنیا میں کرونا کی وبا آئی ہے

جب سے دنیا میں کرونا کی وبا آئی ہےزندگی سب کی در و بام سے گھبرائی ہے اب پرندے بھی بھٹکتے نہیں اشجار کے پاسامتحاں ہے یا گناہوں کی سزا پائی ہے آج پھر سو گئے روتے ہوئے بھوکے بچےحاکمِ وقت کے کتوں کی پذیرائی ہے سرخ جوڑے میں یہ نکلا ہے جنازہ کس کارقص

جب سے دنیا میں کرونا کی وبا آئی ہے Read More »

جس کو پایا ہی نہیں پھر اسے کھونا کیسا

جس کو پایا ہی نہیں پھر اسے کھونا کیساہائے ناکامیِ الفت ترا رونا کیسا عشق میں جلنا مقدر ہوا پروانوں کااپنی پلکوں کا اے دل تیرا بھگونا کیسا جو اترتے ہیں نہیں دل میں کسی بھی صورتایسے جذبات کا غزلوں میں پرونا کیسا یوں تو آباد ہے صدیوں سے جہانِ حیرتاس میں ہونا مرا موجود

جس کو پایا ہی نہیں پھر اسے کھونا کیسا Read More »

اسے بھلایا ہے جتنا وہ یاد آیا ہے

اسے بھلایا ہے جتنا وہ یاد آیا ہےعجیب تیر محبت نے یہ چلایا ہے اسے بھلاؤں تو رکتی ہے دل کی دھڑکن بھیوہ اس طرح سے مری ذات میں سمایا ہے تھی اس کو مجھ سے محبت تو پھر رلایا کیوںیہ اک سوال خیالات نے اٹھایا ہے وہ جس کی یاد سے روشن ہے میرے

اسے بھلایا ہے جتنا وہ یاد آیا ہے Read More »

اس کے بغیر اپنا بھی ایسا ہی حال تھا

اس کے بغیر اپنا بھی ایسا ہی حال تھاجیسے خزاں کے بعد گلوں کا جمال تھا پل بھر کو وہ قریب ہوئے دور ہو گئےیہ عمر بھر کے ہجر کا کیسا وصال تھا خوشیوں کا تاج اس نے جبیں پر سجا لیاجس کے فراق میں یہ مرا دل نڈھال تھا برسوں کے بعد آج ملا

اس کے بغیر اپنا بھی ایسا ہی حال تھا Read More »

مریضِ عشق کو تیرے کہیں دوا نہ ملی

مریضِ عشق کو تیرے کہیں دوا نہ ملیترے مطب کے علاوہ کہیں شفا نہ ملی دعائیں ہم نے سمیٹی ہیں لاکھ لوگوں سےجو ماں سے ملتی تھی اکثر وہی دعا نہ ملی سنا ہے شہر کے سارے طبیب زندہ ہیںہمارے درد کی لیکن کہیں دوا نہ ملی ہمیشہ میں نے وفاؤں کا پاس رکھا تھاوفا

مریضِ عشق کو تیرے کہیں دوا نہ ملی Read More »

یہ میرا ہونا کوئی میرا امتحاں تو نہ تھا

یہ میرا ہونا کوئی میرا امتحاں تو نہ تھامرے یقین پہ حاوی مرا گماں تو نہ تھا وہ میرے ساتھ رہا اور پھر بچھڑ بھی گیابچھڑ کے زندہ رہوں گا مرا گماں تو نہ تھا اسے یہ زعم کے وہ حسن بے مثالی ہےمری طرح کا بشر تھا وہ آسماں تو نہ تھا یہ کون

یہ میرا ہونا کوئی میرا امتحاں تو نہ تھا Read More »