بعد مدت کے مرے شہر میں آیا ہے کوئی
حوصلہ اک نیا جینے کا ملا ہے کوئی
کتنا دل کش ہے یہ انداز ترے ملنے کا
یوں لگا جیسے بہاروں کی ادا ہے کوئی
وقت کے ساتھ ہی بھر جائے گا یہ زخم نیا
زخم تازہ کی طرح مجھ سے خفا ہے کوئی
میرے گلشن کی خدا خیر کرے ہے یہ دعا
بجلیوں کے بھی کڑکنے کی صدا ہے کوئی
کیوں سرِ راہِ محبت ہے تو تنہا تنہا
نیند آنکھوں سے ہے اوجھل یا خفا ہے کوئی
مل ہی جائیں گے ہے بس شرط یہی اک سادا
اس کو بھی یاد اگر عہدِ وفا ہے کوئی
شاعری ہے تری اقبال یا پھر اتنا بتا
اشک آنکھوں سے ٹپکنے کی صدا ہے کوئی
ڈاکٹر سید محمد اقبال شاہ