MOJ E SUKHAN

اسے بھلایا ہے جتنا وہ یاد آیا ہے

اسے بھلایا ہے جتنا وہ یاد آیا ہے
عجیب تیر محبت نے یہ چلایا ہے

اسے بھلاؤں تو رکتی ہے دل کی دھڑکن بھی
وہ اس طرح سے مری ذات میں سمایا ہے

تھی اس کو مجھ سے محبت تو پھر رلایا کیوں
یہ اک سوال خیالات نے اٹھایا ہے

وہ جس کی یاد سے روشن ہے میرے دل کا چراغ
میں جانتا ہوں وہ میرا نہیں پرایا ہے

ہزاروں یاد کے سائے ہیں آس پاس مرے
کسی کے عشق نے کیسا ہنر دکھایا ہے

مجھے تو عشق کے محور میں زندگی تونے
میں کہہ رہا ہوں تجھے تو نے بس نچایا ہے

وفا کے باب میں اقبال اس مقدر نے
ہمارے نام کو لکھ کر فقط مٹایا ہے

ڈاکٹر سید محمد اقبال شاہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم