MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

منزلیں لاکھ کٹھن آئیں گزر جاؤں گا

منزلیں لاکھ کٹھن آئیں گزر جاؤں گا حوصلہ ہار کے بیٹھوں گا تو مر جاؤں گا ۔ چل رہے تھے جو میرے ساتھ کہاں ہیں وہ لوگ جو یہ کہتے تھے کہ رستے میں بکھر جاؤں گا ۔ در بدر ہونے سے پہلے کبھی سوچا بھی نہ تھا گھر مجھے راس نہ آیا تو کدھر

منزلیں لاکھ کٹھن آئیں گزر جاؤں گا Read More »

ہم بھی کتنے عجیب سے ہیں ناں

Ham bhi kitnay ajeeb say hain naa نظم ہم بھی کتنے عجیب سے ہیں ناںلذتِ خواب کی تڑپ رکھ کراپنی آنکھیں نچوڑ لیتے ہیںسرحدِ نیند پر اچانک ہیاپنی بینائی کے خزینے کوکرکے مصلوب ان اندھیروں میںبے سہارا سا چھوڑ دیتے ہیںمنہ حقیقت سے موڑ لیتے ہیںہم بھی کتنے عجیب سے ہیں ناںجو محبت کے آسمانوں

ہم بھی کتنے عجیب سے ہیں ناں Read More »

ہونے کا اپنے راز اجاگر کروں تو کیا

Honay ka apnay Raaz ujagar karoo to kia غزل ہونے کا اپنے راز اجاگر کروں تو کیایعنی کے اپنے ساتھ ستمگر کروں تو کیا اس زندگی نے راہ، یقیں تک تو چھین لیمیں خود کو اپنے قد کے برابر کروں تو کیا کچھ بھی نہیں ہے دینے کو اب دانِ زندگیمیں پیش تیرے روبرو اس

ہونے کا اپنے راز اجاگر کروں تو کیا Read More »

کچھ دن تو بسو مری آنکھوں میں

کچھ دن تو بسو مری آنکھوں میں پھر خواب اگر ہو جاؤ تو کیا ۔ کوئی رنگ تو دو مرے چہرے کو پھر زخم اگر مہکاؤ تو کیا ۔ جب ہم ہی نہ مہکے پھر صاحب تم باد صبا کہلاؤ تو کیا ۔ اک آئنہ تھا سو ٹوٹ گیا اب خود سے اگر شرماؤ تو

کچھ دن تو بسو مری آنکھوں میں Read More »

کچھ عشق تھا کچھ مجبوری تھی سو میں نے جیون وار دیا

کچھ عشق تھا کچھ مجبوری تھی سو میں نے جیون وار دیا میں کیسا زندہ آدمی تھا اک شخص نے مجھ کو مار دیا ۔ اک سبز شاخ گلاب کی تھا اک دنیا اپنے خواب کی تھا وہ ایک بہار جو آئی نہیں اس کے لیے سب کچھ ہار دیا ۔ یہ سجا سجایا گھر

کچھ عشق تھا کچھ مجبوری تھی سو میں نے جیون وار دیا Read More »

ہجر کرتے یا کوئی وصل گزارا کرتے

ہجر کرتے یا کوئی وصل گزارا کرتے ہم بہرحال بسر خواب تمہارا کرتے ایک ایسی بھی گھڑی عشق میں آئی تھی کہ ہم خاک کو ہاتھ لگاتے تو ستارا کرتے ۔ اب تو مل جاؤ ہمیں تم کہ تمہاری خاطر اتنی دور آ گئے دنیا سے کنارا کرتے ۔ محو آرائش رخ ہے وہ قیامت

ہجر کرتے یا کوئی وصل گزارا کرتے Read More »

خیال و خواب ہوئی ہیں محبتیں کیسی

خیال و خواب ہوئی ہیں محبتیں کیسی لہو میں ناچ رہی ہیں یہ وحشتیں کیسی ۔ نہ شب کو چاند ہی اچھا نہ دن کو مہر اچھا یہ ہم پہ بیت رہی ہیں قیامتیں کیسی ۔ وہ ساتھ تھا تو خدا بھی تھا مہرباں کیا کیا بچھڑ گیا تو ہوئی ہیں عداوتیں کیسی ۔ عذاب

خیال و خواب ہوئی ہیں محبتیں کیسی Read More »

میں یہ کس کے نام لکھوں جو الم گزر رہے ہیں

میں یہ کس کے نام لکھوں جو الم گزر رہے ہیں مرے شہر جل رہے ہیں مرے لوگ مر رہے ہیں ۔ کوئی غنچہ ہو کہ گل ہو کوئی شاخ ہو شجر ہو وہ ہوائے گلستاں ہے کہ سبھی بکھر رہے ہیں ۔ کبھی رحمتیں تھیں نازل اسی خطۂ زمیں پر وہی خطۂ زمیں ہے

میں یہ کس کے نام لکھوں جو الم گزر رہے ہیں Read More »

بنا گلاب تو کانٹے چبھا گیا اک شخص

بنا گلاب تو کانٹے چبھا گیا اک شخص ہوا چراغ تو گھر ہی جلا گیا اک شخص ۔ تمام رنگ مرے اور سارے خواب مرے فسانہ تھے کہ فسانہ بنا گیا اک شخص ۔ میں کس ہوا میں اڑوں کس فضا میں لہراؤں دکھوں کے جال ہر اک سو بچھا گیا اک شخص ۔ پلٹ

بنا گلاب تو کانٹے چبھا گیا اک شخص Read More »

خواب ہی خواب کب تلک دیکھوں

خواب ہی خواب کب تلک دیکھوں کاش تجھ کو بھی اک جھلک دیکھوں ۔ چاندنی کا سماں تھا اور ہم تم اب ستارے پلک پلک دیکھوں ۔ جانے تو کس کا ہم سفر ہوگا میں تجھے اپنی جاں تلک دیکھوں ۔ بند کیوں ذات میں رہوں اپنی موج بن جاؤں اور چھلک دیکھوں ۔ صبح

خواب ہی خواب کب تلک دیکھوں Read More »