MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

اُس شہر میں رہنے کو ٹھکانہ بھی نہیں تھا

اُس شہر میں رہنے کو ٹھکانہ بھی نہیں تھا وہ شہر جسے چھوڑ کے جانا بھی نہیں تھا اُس شخص کی راہ دیکھتے رہتے تھے ہمیشہ جس شخص کو اس شہر میں آنا بھی نہیں تھا صحراؤں میں سب خرچ ہوئی عمر کی پونجی سو پشت سے مجنوں کا گھرانہ بھی نہیں تھا ہر شخص

اُس شہر میں رہنے کو ٹھکانہ بھی نہیں تھا Read More »

کشتی کو کنارے پہ ڈبونا نہیں آتا

کشتی کو کنارے پہ ڈبونا نہیں آتاجو جیت چکے ہیں اسے کھونا نہیں آتا یہ کون سی منزل ہے خدا جانے جنوں کی اب کوئی بھی دکھ ہو ہمیں رونا نہیں آتا کاندھے پہ ہمارے ہی رہا عشق سلامت یہ بوجھ کسی اور کو ڈھونا نہیں آتا تب ذہن میں آتی ہے کوئی اس کے

کشتی کو کنارے پہ ڈبونا نہیں آتا Read More »

دل کہتا ہے بے خوف و خطر بات کرے گا

دل کہتا ہے بے خوف و خطر بات کرے گا جو کچھ بھی ہو ظالم سے مگر بات کرے گا کیوں ہاتھ نہیں روکتے تم آراکشوں کا اس بار پرندوں سے شجر بات کرے گا وہ خوش نوا،خوش شکل،وہ جادو بیاں شاعر وہ چُپ بھی رہے گا تو ہُنر بات کرے گا آجائیں گے پھر

دل کہتا ہے بے خوف و خطر بات کرے گا Read More »

عورت

Rab ki Rehmat nay jab jani aurat نظم عورت رب کی رحمت نے جب چنی عورتپھر محبت سے ہے گندھی عورتجس کی پسلی سے ہے بنی عورتاس کے پہلو میں ہی سجی عورتسانس لیتی ہے جو محبت سےکون واقف ہے اس کی عظمت سےرہنا چاہتی ہے خوب عزت سےپیکرِ کانچ یہ ڈھلی عورتاس کی آنکھوں

عورت Read More »

کون پرسان حال ہے میرا

کون پرسان حال ہے میرا زندہ رہنا کمال ہے میرا ۔ تو نہیں تو ترا خیال سہی کوئی تو ہم خیال ہے میرا ۔ میرے اعصاب دے رہے ہیں جواب حوصلہ کب نڈھال ہے میرا ۔ چڑھتا سورج بتا رہا ہے مجھے بس یہیں سے زوال ہے میرا ۔ سب کی نظریں مری نگاہ میں

کون پرسان حال ہے میرا Read More »

سامنے جب کوئی بھرپور جوانی آئے

سامنے جب کوئی بھرپور جوانی آئے پھر طبیعت میں مری کیوں نہ روانی آئے ۔ کوئی پیاسا بھی کبھی اس کی طرف رخ نہ کرے کسی دریا کو اگر پیاس بجھانی آئے ۔ میں نے حسرت سے نظر بھر کے اسے دیکھ لیا جب سمجھ میں نہ محبت کے معانی آئے ۔ اس کی خوشبو

سامنے جب کوئی بھرپور جوانی آئے Read More »

خدا نے کیوں دل درد آشنا دیا ہے مجھے

خدا نے کیوں دل درد آشنا دیا ہے مجھے اس آگہی نے تو پاگل بنا دیا ہے مجھے ۔ تمہی کو یاد نہ کرتا تو اور کیا کرتا تمہارے بعد سبھی نے بھلا دیا ہے مجھے ۔ صعوبتوں میں سفر کی کبھی جو نیند آئی مرے بدن کی تھکن نے اٹھا دیا ہے مجھے ۔

خدا نے کیوں دل درد آشنا دیا ہے مجھے Read More »

زندگی بھر میں سرگرانی سے

زندگی بھر میں سرگرانی سے ایسے کھیلا ہوں جیسے پانی سے ۔ کتنے ہی غم نکھرنے لگتے ہیں ایک لمحے کی شادمانی سے ۔ ہر کہانی مری کہانی تھی جی نہ بہلا کسی کہانی سے ۔ صرف وقتی سکون ملتا ہے پیاس بجھتی نہیں ہے پانی سے ۔ مجھ کو کیا کیا نہ دکھ ملے

زندگی بھر میں سرگرانی سے Read More »

شرح غم ہائے بے حساب ہوں میں

شرح غم ہائے بے حساب ہوں میں لکھنے بیٹھوں تو اک کتاب ہوں میں ۔ میری بربادیوں پہ مت جاؤ ان نگاہوں کا انتخاب ہوں میں ۔ خواب تھا یا شباب تھا میرا دو سوالوں کا اک جواب ہوں میں ۔ مدرسہ میرا میری ذات میں ہے خود معلم ہوں خود کتاب ہوں میں ۔

شرح غم ہائے بے حساب ہوں میں Read More »

رحمٰن ہے رحیم خدا تو حسیب ہے

Rehman hay Raheem Khuda to Haseeb hay حمدِ باری تعالیٰ رحمٰن ہے رحیم خدا تو حسیب ہےشہہ رگ سے اپنے بندوں کے تو ہی قریب ہے سانسوں پہ اختیار ہے دھڑکن پہ اختیارکرتا ہے اپنے بندوں سے تو پیار بے شمار دریا بہائے تو نے سمندر بہا دیےاور آسماں پہ چاند ستارے سجا دیے مٹی

رحمٰن ہے رحیم خدا تو حسیب ہے Read More »