عزیز اتنا ہی رکھو کہ جی سنبھل جائے
عزیز اتنا ہی رکھو کہ جی سنبھل جائے اب اس قدر بھی نہ چاہو کہ دم نکل جائے . ملے ہیں یوں تو بہت آؤ اب ملیں یوں بھی کہ روح گرمیٔ انفاس سے پگھل جائے . محبتوں میں عجب ہے دلوں کو دھڑکا سا کہ جانے کون کہاں راستہ بدل جائے . زہے وہ
عزیز اتنا ہی رکھو کہ جی سنبھل جائے Read More »