MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

عزیز اتنا ہی رکھو کہ جی سنبھل جائے

عزیز اتنا ہی رکھو کہ جی سنبھل جائے اب اس قدر بھی نہ چاہو کہ دم نکل جائے . ملے ہیں یوں تو بہت آؤ اب ملیں یوں بھی کہ روح گرمیٔ انفاس سے پگھل جائے . محبتوں میں عجب ہے دلوں کو دھڑکا سا کہ جانے کون کہاں راستہ بدل جائے . زہے وہ

عزیز اتنا ہی رکھو کہ جی سنبھل جائے Read More »

درد کی راگنی بھی اف اللہ

Dard ki Ragni bhi uff Allah غزل درد کی راگنی بھی اف اللہکیا کہیں زنگی بھی اف اللہ ہائے ان کا شہد بھرا لہجہاور پھر دل کشی بھی اف اللہ آڑ میں چپ کی بات کرتے ہیںان کی یہ خامشی بھی اف اللہ رنج و غم درد سسکیاں آنسواف غمِ عاشقی بھی اف اللہ ٹوٹ

درد کی راگنی بھی اف اللہ Read More »

غم سے بہل رہے ہیں آپ آپ بہت عجیب ہیں

غم سے بہل رہے ہیں آپ آپ بہت عجیب ہیں درد میں ڈھل رہے ہیں آپ آپ بہت عجیب ہیں ۔ سایۂ وصل کب سے ہے آپ کا منتظر مگر ہجر میں جل رہے ہیں آپ آپ بہت عجیب ہیں ۔ اپنے خلاف فیصلہ خود ہی لکھا ہے آپ نے ہاتھ بھی مل رہے ہیں

غم سے بہل رہے ہیں آپ آپ بہت عجیب ہیں Read More »

بے دلی سے ہنسنے کو خوش دلی نہ سمجھا جائے

بے دلی سے ہنسنے کو خوش دلی نہ سمجھا جائے غم سے جلتے چہروں کو روشنی نہ سمجھا جائے ۔ گاہ گاہ وحشت میں گھر کی سمت جاتا ہوں اس کو دشت حیرت سے واپسی نہ سمجھا جائے ۔ لاکھ خوش گماں دنیا باہمی تعلق کو دوستی کہیں لیکن دوستی نہ سمجھا جائے ۔ ہم

بے دلی سے ہنسنے کو خوش دلی نہ سمجھا جائے Read More »

کون گماں یقیں بنا کون سا گھاؤ بھر گیا

کون گماں یقیں بنا کون سا گھاؤ بھر گیا جیسے سبھی گزر گئے جونؔ بھی کل گزر گیا ۔ اس کا چراغ وصل تو ہجر سے رابطے میں تھا وہ بھی نہ جل سکا ادھر یہ بھی ادھر بکھر گیا ۔ زیست کی رونقیں تمام اس کی تلاش میں رہیں اور وہ غم نژاد جونؔ

کون گماں یقیں بنا کون سا گھاؤ بھر گیا Read More »

دل نے کردی ہے خم جبیں آ جا

Dil Nay kar di hay Kham jabeen Aa ja غزل دل نے کردی ہے خم جبیں آ جااے مری روح کے مکیں آ جا دل ہے شیشے کا ہجر پتھر سادرد کی پار کر زمیں آ جا بن ترے بے ثمر حیاتی ہےدل کی بنجر ہوئی زمیں آ جا تجھ کو اخلاص سے پکارا ہےسن

دل نے کردی ہے خم جبیں آ جا Read More »

خون سے جب جلا دیا ایک دیا بجھا ہوا

خون سے جب جلا دیا ایک دیا بجھا ہوا پھر مجھے دے دیا گیا ایک دیا بجھا ہوا ۔ اپنے تو عہد شوق کے مرحلے سب عجیب تھے ہم کو وصال سا لگا ایک دیا بجھا ہوا ۔ ایک ہی داستان شب ایک ہی سلسلہ تو ہے ایک دیا جلا ہوا ایک دیا بجھا ہوا

خون سے جب جلا دیا ایک دیا بجھا ہوا Read More »

چراغ ہوں کب سے جل رہا ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھیے

چراغ ہوں کب سے جل رہا ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھیے جو بجھ گیا تو سحر نما ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھیے ۔ وہ بات جو آپ کہہ نہ پائے مری غزل میں بیاں ہوئی ہے میں آپ کا حرف مدعا ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھیے ۔ غبار ہوں آپ چاہے غازہ

چراغ ہوں کب سے جل رہا ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھیے Read More »

ہماری طرح کوئی دوسرا ہوا بھی نہیں

ہماری طرح کوئی دوسرا ہوا بھی نہیں وہ درد دل میں رکھا ہے جو لا دوا بھی نہیں ۔ ہمارا درد عجب مرحلے میں ہے کہ جہاں وہ بے سخن بھی نہیں اور لب کشا بھی نہیں ۔ اسی کو دیکھتی رہتی ہے چشم شوق مدام جو غم ابھی سر شاخ الم کھلا بھی نہیں

ہماری طرح کوئی دوسرا ہوا بھی نہیں Read More »

سانحہ نہیں ٹلتا سانحے پہ رونے سے

سانحہ نہیں ٹلتا سانحے پہ رونے سے حبس جاں نہ کم ہوگا بے لباس ہونے سے ۔ اب تو میرا دشمن بھی میری طرح روتا ہے کچھ گلے تو کم ہوں گے ساتھ ساتھ رونے سے ۔ متن زیست تو سارا بے نمود لگتا ہے درد بے نہایت کا حاشیہ نہ ہونے سے ۔ سچے

سانحہ نہیں ٹلتا سانحے پہ رونے سے Read More »