MOJ E SUKHAN

اس کے غم کو غم ہستی تو مرے دل نہ بنا

اس کے غم کو غم ہستی تو مرے دل نہ بنا

زیست مشکل ہے اسے اور بھی مشکل نہ بنا

۔

تو بھی محدود نہ ہو مجھ کو بھی محدود نہ کر

اپنے نقش کف پا کو مری منزل نہ بنا

۔

اور بڑھ جائے گی ویرانئ دل جان جہاں

میری خلوت گہ خاموش کو محفل نہ بنا

۔

دل کے ہر کھیل میں ہوتا ہے بہت جاں کا زیاں

عشق کو عشق سمجھ مشغلۂ‌ دل نہ بنا

۔

پھر مری آس بندھا کر مجھے مایوس نہ کر

حاصل غم کو خدارا غم حاصل نہ بنا

حمایت علی شاعر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم