اس کے غم کو غم ہستی تو مرے دل نہ بنا
زیست مشکل ہے اسے اور بھی مشکل نہ بنا
۔
تو بھی محدود نہ ہو مجھ کو بھی محدود نہ کر
اپنے نقش کف پا کو مری منزل نہ بنا
۔
اور بڑھ جائے گی ویرانئ دل جان جہاں
میری خلوت گہ خاموش کو محفل نہ بنا
۔
دل کے ہر کھیل میں ہوتا ہے بہت جاں کا زیاں
عشق کو عشق سمجھ مشغلۂ دل نہ بنا
۔
پھر مری آس بندھا کر مجھے مایوس نہ کر
حاصل غم کو خدارا غم حاصل نہ بنا
حمایت علی شاعر