MOJ E SUKHAN

محبت کی دنیا میں مشہور کر دوں

محبت کی دنیا میں مشہور کر دوں
مری سادہ دل تجھ کو مغرور کر دوں

ترے دل کو ملنے کی خود آرزو ہو
تجھے اس قدر غم سے رنجور کر دوں

مجھے زندگی دور رکھتی ہے تجھ سے
جو تو پاس ہو تو اسے دور کر دوں

محبت کے اقرار سے شرم کب تک
کبھی سامنا ہو تو مجبور کر دوں

مرے دل میں ہے شعلۂ حسن رقصاں
میں چاہوں تو ہر ذرے کو طور کر دوں

یہ بے رنگیاں کب تک اے حسن رنگیں
ادھر آ تجھے عشق میں چور کر دوں

تو گر سامنے ہو تو میں بے خودی میں
ستاروں کو سجدے پہ مجبور کر دوں

سیہ خانۂ غم ہے ساقی زمانہ
بس اک جام اور نور ہی نور کر دوں

نہیں زندگی کو وفا ورنہ اخترؔ
محبت سے دنیا کو معمور کر دوں

اختر شیرانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم